شیعہ جواد حسین نقوی لاہوری کا اعتراف - دفاعِ اہلِ سنت |…

شیعہ جواد حسین نقوی لاہوری کا اعتراف

  مولانا اقبال رنگونی

لاہور کا معروف شیعہ جواد نقوی تسلیم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت دراصل شیعوں کی بے وفائی اور نقصِ عہد کی وجہ سے ہوئی تھی۔ موصوف کہتا ہے: 

شیعوں نے بے وفائی کی، کوفیوں نے بے وفائی کی، کوفہ میں شیعہ تھے انہوں نے بے وفائی کی، ساتھ نہیں دیا عہد کیا بلایا، دعوت دی، حمایت نہیں کی۔

 شیعہ ملا باقر مجلسی سے سنیے:

لوگ ہمیں غدار اور قاتلانِ حسین کہتے ہیں آج میں اقرار کرتا ہوں کہ ہاں شیعوں نے اہلِ بیتؓ سے غداری کی اور ان کو شہید کیا پر قسم لے لو وہ ہم نہیں تھے بلکہ ہمارے آباؤاجداد تھے ہم تو ان کا کفارہ ادا کر رہے ہیں ماتم کر کے۔

(بحار الانوار: جلد 34 صفحہ 55،  جلاء العیون: جلد 1 صفحہ 246،الاحتجاج: صفحہ 162)

اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کے وہ لوگ جو بظاہر سیدنا علیؓ اور ان کی آلِ اولاد کی محبت و عقیدت کا دم بھرتے تھے وہ سب جھوٹ اور دھوکہ تھا یہ لوگ چاہتے تھے کہ جس طرح بھی بن پڑے سیدنا حسینؓ کسی طرح کوفہ کی حدود میں آ جائیں تاکہ وہ اپنے دل کا غیظ و غضب نکال سکیں اور خاندانِ نبوت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے ان کا بار بار خط لکھنا، آپ کی محبت و عقیدت میں گیت گانا اور نعرے لگانا یہ سب کچھ درحقیقت آپ کے خلاف ایک بڑی گہری چال تھی جس کا پھر آپ نے بھی کھلا اظہار کیا تھا بہرحال عراقی شیعہ کے مسلسل خطوط اور ان کی طرف سے تعاون کی یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ ایک لاکھ آدمی آپ کے ساتھ ہیں۔  

(طبری: جلد 4 صفحہ 209)

نہج الاحزان کا شیعہ مؤلف حسن بن علی یزدانی لکھتا ہے:

 نیز عریضہ نوشتہ بودند کہ صد ہزار شمشیر از براۓ تصرف تو مہیا است۔ (نہج الاحزان: صفحہ 55)

انہی یقین دہانیوں کی بناء پر جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ آپ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو بھیجا تھا کہ وہ جا کر وہاں کے حالات دیکھیں اور آپ کو مطلع کریں حضرت مسلم بن عقیلؓ مختلف اور دشوار گزار مراحل سے گزرتے ہوئے وہاں پہنچے اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ ظاہراً جس برتاؤ کا مظاہرہ کیا اس سے حضرت مسلم بن عقیلؓ متاثر ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو کوفہ آنے کا سگنل دے دیا۔ ادھر اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم کو پھر بے یار و مددگار چھوڑ دیا حضرت مسلم نے یہ خبر سیدنا حسینؓ تک پہنچائی۔ تاہم سیدنا حسینؓ رکے نہیں، کوفہ جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ ہم اوپر بتا آئے ہیں کہ اہلِ مکہ و مدینہ نے بھی آپ کو کوفیوں کی بے وفائی اور غداری سے خبردار کیا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالرحمٰن، حضرت عبداللہ بن عباس،حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ سب اس میں ناکام رہے اور آپ ذی الحجہ 60ھ کو مکہ مکرمہ سے عراق روانہ ہو گئے۔