پروفیسر غلام صابر لکھتے ہیں کہ شیعہ پاؤں کا مسح کرتے ہیں، پاؤں دھونے سے ان کا وضو باطل ہو جاتا ہے۔ (صفحہ 11) مگر اہلِ سنت کے نزدیک طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں جب کہ پاؤں پر موزے نہ ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے سے وضو ہوتا ہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ حضور اکرمﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ سے کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ انہوں نے طہارت کے لیے کیے گئے وضو میں پاؤں پر مسح کیا ہو۔
اسی لیے امام سیوطیؒ امام حکمؒ سے روایت نقل کرتے ہیں:
مَضَتِ السُّنَّۃُ مِن رَسُولِ اللهِﷺ وَالمُسلِمِينَ بِغَسلِ القَدَمَينِ
کہ نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کی سنت پاؤں کے دھونے کی چلی آ رہی ہے۔
اور پھر امام سیوطیؒ نے حضرت عطاءؓ سے نقل کیا ہے:
لَم أَرَ أَحَدًا يَمسَحُ عَلَى القَدَمَينِ
(تفسیر در منثور: جلد 2 صفحہ 262)
ترجمہ: کہ میں نے کسی کو پاؤں پر مسح کرتے نہیں دیکھا۔
اور نبی کریمﷺ کا ان لوگوں کے بارے میں واضح ارشاد موجود ہے جنہوں نے وضو کرتے وقت پاؤں کا کچھ حصہ خشک چھوڑ دیا تھا:
وَيْلٌ لِلأَعقَابِ مِنَ النَّارِ
ترجمہ: جو ایڑیاں وضو میں خشک رہ گئیں ان کے لیے ویل یعنی جہنم کی وادی ہے یا ان کے لیے بربادی ہے۔ یہ روایت حضرت خالد بن ولید، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت شرجیل بن حسنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے ہے۔
(کنز العمال: جلد9 صفحہ185)
اور حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے بخاری: جلد، 1 صفحہ، 28 اور مسلم: جلد، 1 صفحہ، 125 اور حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مسلم: جلد، 1 صفحہ، 124 اور حضرت ابو ہریرہؓ سے ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 8 میں موجود ہے۔
اور بعض روایات میں وَيْلٌ لِلعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ یہ الفاظ ہیں۔
(ابنِ ماجہ: صفحہ36 طحاوی: جلد 1 صفحہ23 مسند احمد: صفحہ 369، 390، 393)
اس لیے امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اگر پاؤں پر مسح کی ذرا سی بھی گنجائش ہوتی تو نبی کریمﷺ وَيْلٌ لِلأَعقَابِ سے وعید نہ فرماتے۔
(معالم السنن: جلد1 صفحہ 86)