خیر خواہوں کا سیدنا حسینؓ کو روکنے کی ایک اور وجہ - دفاعِ…

خیر خواہوں کا سیدنا حسینؓ کو روکنے کی ایک اور وجہ

  مولانا اقبال رنگونی

صحابہ کرامؓ کی سیدنا حسینؓ کو روکنے کی ایک اور وجہ ہندوستان کے ممتاز محقق عالم، مولانا قاضی اطہر مبارک پوریؒ (417ھ) یہ لکھتے ہیں:

اس میں شک نہیں کہ سیدنا حسینؓ کو بہت سے صحابہ کرامؓ نے اس سفر سے منع کیا اور اس کے خلاف مشورے دیے مگر یہ فہمائش اس لیے نہیں تھی کہ یزید خلیفہ عادل اور امامِ برحق ہے، اس کے خلاف خروج غلط ہے بلکہ ان کی تمام تر فہمائش سیدنا حسینؓ کو اس بات کی تھی کہ آپ جو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے اندر اس اقدام میں کامیابی کی طاقتور شوکت ہے تو آپ کا یہ اندازہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ پوری طاقت و شوکت سمٹ سمٹا کر بنو امیہ میں آ گئی ہے اور وہ اپنی طاقت کے مقابلے میں کسی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے:  

وَكَانَ ظَنُّهُ الْقُدْرَةَ عَلَى ذَلِكَ وَلَقَدْ عَذَلَهُ ابْنُ الْعَبَّاسِ وَابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ عُمَرَ وَابْنُ الْحَنَفِيَّةِ أَخُوهُ وَغَيْرُهُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى الْكُوفَةِ وَعَلِمُوا غَلَطَهُ فِی ذَلِكَ۔  

(تاریخ ابن خلدون: صفحہ 270)  

آپ کو اندازہ تھا کہ مجھے اس بات کی طاقت ہے اور ابنِ عباس، ابنِ زبیر، ابنِ عمر، اور ان کے بھائی محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہم وغیرہ نے ان کے کوفہ جانے پر سخت و سست لہجے میں سمجھایا، کیونکہ انہوں نے اس اندازہ میں ان کی غلطی کو جانا۔  

(ماخوذ از علیؓ و حسینؓ: صفحہ 137)

صحابہ کرامؓ جن میں آپ کے اپنے قریب رشتہ دار حضرات بھی تھے، ان سب نے آپ کو عراق جانے سے اس لیے روکا کہیں آپ کسی بڑی مصیبت کا شکار نہ ہو جائیں اور انہوں نے آپ کے سامنے بار بار ان خطرات کی نشاندہی بھی کی جو بعد میں صحیح ثابت ہوئیں تاہم آپ اپنا ارادہ بدلنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور عراق کی جانب چل دیے تاریخ شاہد ہے کہ وہاں پھر بھی وہی کچھ ہوا جس کا اندیشہ ان بزرگوں نے، بالخصوص آپؓ کے برادرِ اکبر سیدنا حسنؓ نے بہت پہلے کیا تھا وہ لوگ جنہوں نے آپ کو خطوط لکھے اور آپؓ کی مدد و نصرت کے وعدے کیے، انہوں نے ہی آپؓ کی حمایت سے ہاتھ اٹھا دیا اور آپؓ کو اپنے رفقاء کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا یہ صرف آپؓ کے ساتھ ہی نہیں ہوا، عراق کے ان شیعوں نے سیدنا حسنؓ کے ساتھ بھی اسی طرح بدتمیزی اور بدسلوکی کی تھی، اور ان کے والدِ محترم سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی ان کے ہاتھوں بہت زیادہ تکلیف برداشت کرتے رہے ہیں۔