حضرت عمر بن عبدالرحمٰن مخزومی کا مشورہ - دفاعِ اہلِ سنت |…

حضرت عمر بن عبدالرحمٰن مخزومی کا مشورہ

  مولانا اقبال رنگونی

حضرت عمر بن عبدالرحمٰن مخزومی کو جب آپؓ کے سفرِ کوفہ کا پتہ چلا تو وہ بھی آپؓ کے پاس آئے اور کہا: اس سفر میں آپ کے لیے مجھے فکر ہے آپؓ اس شہر میں جا رہے ہیں جہاں عہدہ دار اور امراء ہیں، ان کے پاس خزانہ ہے لوگ درہم و دینار کے غلام ہیں مجھے اس بات کا خوف ہے کہ جن لوگوں نے آپ سے مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ کا ساتھ دیں گے، وہی لوگ آپ سے کہیں آپ کے مقابلے پر نہ آ جائیں۔  

(تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 202)

بلا شبہ مکہ مکرمہ میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو سیدنا حسینؓ کے کوفہ جانے پر رنجیدہ نہ ہوا ہو۔  

(سیرتِ حلبیہ: جلد 1 صفحہ 534)

انہیں اس پر افسوس تھا کہ سیدنا حسینؓ ان کا مشورہ ماننے کے بجائے ان لوگوں کا مطالبہ مان رہے ہیں جن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ لوگ دھوکہ باز ہیں دورانِ سفر آپ کی ملاقات عرب کے مشہور شاعر فرزدق سے ہوئی آپ نے اس سے عراق کے حالات معلوم کیے تو اس نے کہا: حضور! سچی بات یہ ہے کہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر تلواریں آپ کے مخالفین کے ساتھ ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ اپنا ارادہ ملتوی کر دیں۔ (طبری: جلد 4 صفحہ 205)

اس دوران آپؓ کو اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کا خط ملا انہوں نے بھی آپ کو آگے جانے سے روکنے کے لیے کہا پھر وہ خود بھی آپؓ کے پاس پہنچ گئے اور آپؓ کو آگے جانے سے منع کیا، مگر آپؓ نے ان کا مشورہ قبول نہیں کیا اور آگے چل پڑے۔

حضرت الاستاذ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں: 

سیدنا حسینؓ کے وہ خیر خواہ جنہوں نے آپؓ کو عراق نہ جانے کا مشورہ دیا وہ یہ تھے: سیدنا عبداللہ بن جعفر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا محمد بن علی، سیدنا عبداللہ بن جعفر، سیدنا عبداللہ بن مطیع، سیدنا عبداللہ بن عیاش، جنابِ یزید بن الاصم، جنابِ ابو واقد اللیثی رضی اللہ عنہم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ان خیر خواہوں کو عراق کے لوگوں پر ہرگز کوئی اعتماد نہ تھا اس طرح سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنے پورے دورِ خلافت میں ان کی شکایت کرتے رہے مدینہ منورہ کے اکثر لوگوں کی بھی یہی رائے تھی کہ سیدنا حسینؓ وہاں نقل مکانی اور عزلت نشینی کے لیے جا رہے ہیں، لڑنے کے لیے نہیں لیکن یہ لوگ آپ کو وہاں کسی پیرایہ امن میں نہیں رہنے دیں گے ان خیر خواہوں میں سے کسی کی زبان سے یہ بات نہ سنی گئی کہ آپؓ جنگ نہ کریں سب یہی کہتے رہے کہ یہ کوفہ کے لوگ آپؓ کو وہاں بلا کر دھوکہ دے رہے ہیں۔