حضرت محمد بن الحنفیہؓ کا آپ کو روکنا - دفاعِ اہلِ سنت |…

حضرت محمد بن الحنفیہؓ کا آپ کو روکنا

  مولانا اقبال رنگونی

آپ کے سوتیلے بھائی سیدنا محمد بن الحنفیہؓ نے آپ کی منت سماجت کی کہ وہاں نہ جائیں، یہ لوگ غدار ہیں، آپ سے کبھی وفا نہ کریں گے، اس لیے آپ وہاں جانے سے اجتناب برتیں تاہم آپ اپنے بھائی کی اس رائے سے متفق نہ ہو سکے اور اپنا ارادہ نہ بدلا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو روک لیا:  

فَأَبَى الْحُسَيْنُ أَن يَقْبَلَ، فَجَبَسَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ وَلَدَهُ فَلَمْ يَبْعَثْ أَحَداً مِنْهُمْ۔ (البدایہ: جلد 8 صفحہ 165)

علامہ علی بن برہان الدین حلبیؒ (144ھ) لکھتے ہیں کہ : سیدنا حسینؓ کے پاس کوفہ والوں نے اپنا وفد بھیجا کہ آپ کوفہ آئیں، ہم آپ کی بیعت کرنے کے لیے تیار ہیں سیدنا حسینؓ نے (کوفہ والوں کی بات پر اعتبار کر کے) وہاں جانے کا ارادہ کر لیا اس پر سیدنا عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو اس ارادے سے روکا اور ان کو کوفہ والوں کی پچھلی غداریاں یاد دلائیں کہ کس طرح انہوں نے ان کے والدِ ماجد سیدنا علی المرتضیٰؓ کو شہید کیا تھا اور کس طرح ان کے بھائی سیدنا حسنؓ کو دھوکہ دیا تھا اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی ان کو اس ارادے سے روکنے کی کوش کی مگر سیدنا حسینؓ نے ان خطرات کو نہیں مانا یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ رونے لگے اور کہا: افسوس میرے عزیز! 

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے آپؓ سے کہا کہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی امان اور حفاظت میں دیتا ہوں۔ ان کے بھائی سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں ان سے ایک دفعہ کہا تھا کہ کوفہ کے شریروں سے بچتے رہنا، کہ وہ تمہیں دغا دے جائیں اور دشمنوں کے حوالے کر دیں، اور اس وقت تک تم پچھتاؤ جب کہ تمہیں ضرورت کے وقت کوئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ملے سیدنا حسینؓ کو اپنے قتل کی رات میں اپنے بھائی کی یہ بات یاد آئی اور انہوں نے اپنے بھائی کے لیے دعائے رحمت کی۔