پروفیسر کی غلط فہمی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

پروفیسر کی غلط فہمی

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر غلام صابر  لکھتے ہیں کہ صاحب نیل الاوطار بھی پورے سر کے مسح کو بدعت لکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں: مَسحُ الرَّقَبَۃِ لَيسَ هُوَ سُنَّۃً بَل بِدعَۃٌ یعنی وضو میں گردن کا مسح کرنا سنت نہیں بلکہ بدعت ہے۔  

(نیل الاوطار: جلد1 صفحہ193)   

(صفحہ30)  

پروفیسر  کو یہاں دو طرح کی غلط فہمی ہوئی ہے، یا انہوں نے جان بوجھ کر صاحب نیل الاوطار قاضی شوکانیؒ کی طرف غلط بات منسوب کی ہے۔

پروفیسر  کو ایک غلط فہمی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مَسحُ الرَّقَبَۃِ کو بدعت کہنے سے سارے سر کے مسح کو بدعت کہنا ثابت ہوتا ہے۔ اور دوسری غلط فہمی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے امام نوویؒ کی عبارت کو صاحب نیل الاوطار کی عبارت سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کی اپنی ناسمجھی ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ گردن کے مستقل مسح کو تو بدعت کہتے ہیں مگر سر کے مسح میں ہاتھوں کو گدی تک لے جانے یا سارے سر کے مسح کو بدعت ہرگز نہیں کہتے بلکہ اس کو ثابت مانتے ہیں۔ اس لیے مسح رقبہ کو بدعت کہنے سے ان کے نزدیک بھی سارے سر کے مسح کی نفی نہیں ہوتی جیسا کہ پروفیسر صاحب نے اس عبارت سے سمجھ لیا ہے۔

پھر پروفیسر صاحب یہ عبارت صاحب نیل الاوطار قاضی شوکانیؒ کی قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ عبارت امام نوویؒ کی ہے جس کی تردید میں قاضی شوکانی نے بعض روایات نقل کر کے آخر میں لکھا ہے: وبجمیع ھذا تعلم ان قول النووی مسح الرقبۃ بدعۃ وان حدیثه موضوع مجازفۃ

(نیل الاوطار: جلد1 صفحہ181)

اس ساری بحث سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ امام نووی رحمۃ اللہ کا گردن کے مسح کو بدعت کہنا اور اس کی حدیث کو موضوع کہنا بالکل بے تکی بات ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ قاضی شوکانی رحمۃ اللہ تو اس عبارت کے مفہوم کی تردید کر رہے ہیں اور پروفیسر غلام صابر صاحب یہ عبارت ان کی قرار دے رہے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ