حضرت مولانا مفتی اسامہ پالن پوری ڈینڈرولوی کا فتویٰ(استاد جامعہ تعلیم الاسلام ڈابھیل خادم الافتاء والحدیث دار العلوم مرکز اسلام انکلیثور)غالی شیعہ کے جنازے کو کندھا دینا اور کفن دفن اور ان کے رسومات میں شریک ہونا
مسلمان کی کسی غیر مسلم کے جنازہ میں شرکت جائز نہیں پس ہندو، یہودی، عیسائی، قادیانی، شیعہ غالی، سکھ، پارسی وغیرہ کے جنازہ کو کاندھا دینا اور کفن دفن اور ان کے رسومات میں شریک ہونا مسلمان کے لیے جائز نہیں البتہ ان کے جنازہ کے ساتھ چند قدم چلنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ تعلق ہو یا کوئی مصلحت ہو، ورنہ یہ بھی درست نہیں البتہ غیر مسلم اگر اس کا قریبی رشتہ دار ہو تو بدرجہ مجبوری کفن دفن میں شریک ہو سکتا ہے، بلا ضرورت مناسب نہیں۔
(فقہی ضوابط: حصہ اول، صفحہ107)
