سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا آپؓ کو عراق جانے سے روکنا - دفاعِ…

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا آپؓ کو عراق جانے سے روکنا

  مولانا اقبال رنگونی

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (1052ھ) لکھتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ عراق کا قصد کر کے نکل پڑے ہیں تو آپؓ ان کے پیچھے دوڑے اور تین دن کی مسافت طے کرنے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے انہیں روکا سیدنا حسینؓ نے کہا کہ میں عراق اس لیے جا رہا ہوں کہ وہاں کے لوگوں نے عہد و پیمان کیا ہے اور مجھے خطوط بھیجے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضور! آپ کبھی ان کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کریں اور ان کے خطوط پر التفات نہ کریں تاہم سیدنا حسینؓ نے آپ سے معذرت کی اور رخصت ہونے لگے تو سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو گلے لگایا اور آپ بہت روئے۔  

(آداب الصالحین: صفحہ 177)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ سے کیا کہا اسے دیکھیے۔ علامہ ذہبیؒ (748ھ) لکھتے ہیں:  

إِنَّ أَهْلَ العِرَاقِ قَوْمٌ مَنَاكِيْرُ، قَتَلُوا أَبَاكَ، وَضَرَبُوا أَخَاكَ، وَفَعَلُوا وَفَعَلُوا۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 293)  

آپ عراق نہ جائیں، یہ لوگ اچھے کردار کے نہیں ہیں۔ انہوں نے آپ ہی کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو مارا اور ان کے ساتھ نہایت نازیبا سلوک کیا تھا۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ سیدنا حسینؓ جس جگہ جا رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ واپس نہ آئیں پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پیشِ نظر حضورِ اکرمﷺ کی وہ احادیث اور پیشین گوئیاں ہوں جو آپﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت اور مقامِ شہادت کے متعلق بیان فرمائی تھیں اس لیے جب وہ سیدنا حسینؓ کو رخصت کر رہے تھے تو ساتھ ہی وہ یہ جملہ بھی فرما رہے تھے: اے قتل ہونے والے، میں تجھے اللہ کے سپرد کرتا ہوں:  

أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ قَتِيلٍ۔  

(البدایہ: جلد 6 صفحہ 259)