سارے سر کا مسح صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:
ثُمَّ مَسَحَ رَأسَهُ بِيَدَيهِ فَأَقبَلَ بِهِمَا وَأَدبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأسِهِ حَتّٰى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى المَكَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنهُ
(بخاری: جلد1 صفحہ31)
ترجمہ: پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا، تو ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لائے۔ سر کے اگلے حصے سے ابتداء کی، یہاں تک کہ ان کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو اسی جگہ پر واپس لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔
(اور ہاتھوں کو گدی تک لے جانے کی روایت: ترمذی: جلد 1 صفحہ7 ابو داؤد: جلد1 صفحہ16 اور کنز العمال: جلد9 صفحہ 254 وغیرہ میں بھی ہے۔) ایک اور روایت میں ہے: فَأَقبَلَ بِيَدَيهِ وَأَدبَرَ
(مسلم: جلد1 صفحہ123)
ترجمہ: پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے اور پیچھے لے گئے۔
اور عبدِ خیر کی سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے: ثُمَّ مَسَحَ رَأسَهُ بِيَدَيهِ كِلتَيهِمَا
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ135)
ترجمہ: پھر اپنے سر کا دونوں ہاتھوں کے ساتھ مسح کیا۔
اور یہ روایت ابنِ ابی شیبہ: جلد1 صفحہ8، دار قطنی: جلد 1 صفحہ 190 اور صحیح ابنِ خزیمہ: جلد1 صفحہ72 وغیرہ میں بھی ہے۔
اور حضرت ربیع بنتِ معوذؓ نے حضور علیہ السلام کا جو وضو پوچھنے والوں کو بتایا اس میں ہے: ثُمَّ مَسَحَ رَأسَهُ مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ
(کنز العمال: جلد9 صفحہ256)
ترجمہ: پھر آپﷺ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا۔