شیخ مجتہد محمد بن محمد نعمان مفید کا اقرار - دفاعِ اہلِ سنت…

شیخ مجتہد محمد بن محمد نعمان مفید کا اقرار

  مولانا اقبال رنگونی

شیعہ مجتہد شیخ محمد بن نعمان شیخ مفید (413ھ) بھی تسلیم کرتا ہے کہ حضرت مسلمؒ بن عقیل اور سیدنا حسینؓ کی شہادت کے ذمہ دار وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو بلا کر دھوکہ دیا تھا موصوف لکھتے ہیں: 

آپؓ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلمؒ بن عقیل کو بھیجا اور چاہا کہ وہ لوگ ان کو اللہ کی طرف بلائیں اور جہاد کے لیے ان سے بیعت لیں چنانچہ اہلِ کوفہ نے اس پر بیعت کی پختگی کا اظہار اور ہر قسم کی مدد اور خلوص کی ضمانت دیتے ہوئے وثوق اور اطمینان دلایا اور عقد و عقود پڑھے۔ لیکن جلد ہی انہوں نے بیعت توڑ کر آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور انہیں (حضرت مسلمؒ) کو دشمن کے حوالے کر دیا آپ کو ان کے سامنے شہید کیا گیا، لیکن کسی نے نہ روکا بلکہ وہ لوگ جو سیدنا حسینؓ سے جنگ کرنے کے لیے نکلے، آپؓ کا محاصرہ کیا آپ کو اللہ کے شہروں کی طرف جانے سے روک دیا ایسی بے چارگی کی حالت پیدا کر دی کہ نہ کسی مددگار کو پاتے اور نہ ہی ان سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ وہ آپ کے اور دریائے فرات کے درمیان حائل ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے آپ پر قابو پا کر شہید کر دیا آپ اس دنیا سے پیاسے، جہاد کرتے ہوئے، نہایت صبر سے اللہ کی رضا کے لیے مظلوم ہو گئے آپ کی بیعت توڑی گئی۔ آپ کی عزت و حرمت کو حلال سمجھا گیا نہ کسی عہد و پیمان کو پورا کیا اور نہ کسی معاہدے کا خیال کیا۔ آپ اسی طرح شہید ہو کر اس دنیا سے گئے جس طرح آپ کے والد اور بھائی گئے تھے ان سب پر اللہ کا سلام ہو۔  

(الارشاد: صفحہ 255 مترجم)