شیعہ حضرات جو کہنیوں کی جانب سے ہاتھ دھونے کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس بارے میں بضد ہیں، تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ حضرات قرآن کریم کی اس موجودہ قرأت اِلَى الۡمَرَافِقِ کو نعوذ باللہ اصل قرأت ہی نہیں مانتے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک اصل قرأت مِنَ المَرَافِقِ ہے۔
چنانچہ شیعہ حضرات کے شیخ الطائفہ ابو جعفر الطوسی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ الہیثم بن عروہ التمیمی کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ کے متعلق پوچھا فَقَالَ: لَيسَ هَكَذَا تَنزِيلُهَا، إِنَّمَا هِی: فَاغسِلُوا وُجُوهَكُم وَأَيدِيَكُم مِنَ المَرَافِقِ
(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ 57)
تو انہوں نے کہا: قرآن کریم کی اس آیت کا نزول اس طرح نہیں ہے، بلکہ اس طرح ہے: فَاغسِلُوا وُجُوهَكُم وَأَيدِيَكُم مِنَ المَرَافِقِ۔ کہ اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں کی جانب سے دھوو۔ تہذیب الاحکام کے حاشیہ لکھنے والے نے لکھا ہے کہ یہ روایت الکافی جلد 1 صفحہ 10 اور الاستبصار جلد 1 صفحہ 58 میں بھی ہے۔