سیدنا حسینؓ کا حضرت مسلمؒ کو عراق بھیجنا
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ نے سفرِ کوفہ سے پہلے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلمؒ بن عقیل کو وہاں بھیجا تاکہ وہاں کے حالات سے تفصیلاً آگاہ کرے اور بتلائے کہ جن لوگوں نے خطوط لکھ لکھ کر آپؓ کو وہاں آنے کی دعوت دی، وہ اپنی حمایت اور نصرت کا یقین دلا رہے ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے حضرت مسلمؒ جب وہاں پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے یہ سب زبانی جمع خرچ تھے، کوئی بھی دل سے سیدنا حسینؓ کا حامی نہیں تھا۔
معروف شیعہ عالم ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ جب ابنِ زیاد نے اہلِ کوفہ سے کہا کہ اگر تم نے حضرت مسلمؒ کا ساتھ دیا تو اس کا انجام تم خود بھگتو گے، تم پکڑے جاؤ گے یا مارے جاؤ گے یہ سن کر سب اپنی جان بچانے میں لگ گئے جب شام ہوئی تو 30 آدمیوں سے زیادہ حضرت مسلمؒ کے ساتھ نہ تھے جب حضرت مسلمؒ نے یہ کیفیت دیکھی اور اہلِ کوفہ کا عذر اور ان کا مکر بھی انہوں نے دیکھ لیا، اور مسجد میں جا کر مغرب کی نماز ادا فرمائی جب نماز مغرب سے فارغ ہوئے تو فقط دس آدمی آپ کے ساتھ رہے چاہا کہ مسجد سے نکلیں، جب دروازہ کندہ سے باہر آئے تو کوئی ایک بھی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ اس وقت حضرت مسلمؒ اپنی تنہائی سے متاثر ہوئے۔ (جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 200)
حضرت مسلمؒ کو یہ دیکھ کر حد درجہ افسوس ہوا کہ اہلِ کوفہ نے ان سے کیا کیا وعدے کیے تھے اور اب یہ کیا کر رہے ہیں حتیٰ کہ حضرت مسلمؒ تنہا کوفہ کی گلیوں کوچوں میں سراسیمہ پھرتے تھے کہ وہ اب کہاں جائیں تو آپ ایک خاتون کے گھر گئے اور دروازے پر پانی مانگا اس نے پانی دیا جب آپ نے پانی پی لیا تو کہا: اب یہاں سے جائیں، آپ میرے دروازے پر نہیں بیٹھ سکتے پھر جب اسے ان کے حال پر رحم آ گیا تو انہیں اپنے گھر میں داخل کرا دیا لیکن بعد میں اس کے بیٹے نے مخبری کر دی تو ابنِ زیاد کا دستہ ان کی گرفتاری کے لیے آ گیا تو پھر آپ نے ان کا تن تنہا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ بعد میں پھر انہیں شہید کر دیا گیا۔
حضرت مسلمؒ نے پہلے ہی اپنے ایک قاصد سے کہہ دیا تھا کہ تم جا کر سیدنا حسینؓ کو ان حالات کی اطلاع دے دو، کیونکہ وہ مکہ مکرمہ سے اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ساتھ نکل پڑے ہیں مجھے تو اپنی جان جانے کا کوئی غم نہیں، میں ان کے لیے فکر مند ہوں جو یہاں آ رہے ہیں میں سیدنا حسینؓ اور ان کی اولاد کے لیے فکرمند ہوں قاصد یہ پیغام لے کر روانہ ہوگیا۔
حضرت مسلمؒ نے اس خط میں کیا لکھا تھا اسے دیکھیے:
میں نہیں چاہتا کہ آپؓ یہاں آئیں اور قتل کر دیے جائیں آپؓ اہلِ بیتؓ کو لے کر واپس چلے جائیں کوفیوں کے دھوکے میں نہ آنا یہی وہ لوگ ہیں جن سے چھٹکارا پانے کے لیے آپؓ کے والد مرنے کی تمنا رکھتے تھے۔ اہلِ کوفہ آپؓ سے جھوٹ بول رہے ہیں، انہوں نے مجھ سے بھی جھوٹ بولا ہے۔ (جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 200)
قاصد نے یہ خط سیدنا حسینؓ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سیدنا حسینؓ نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اب جو مقدر میں ہے وہ ہونے والا ہے یہ کہہ کر آپؓ آگے چل پڑے اور پھر پتہ چلا کہ ابنِ زیاد کے حکم پر حضرت مسلمؒ شہید کر دیے گئے ہیں ان کی اس شہادت پر سیدنا حسینؓ نے کیا فرمایا، ہم آگے اسے بیان کریں گے۔
