دار الافتاء جامعہ محمودیہ جھنگ کا فتویٰ مسلمانوں کے لیے…

دار الافتاء جامعہ محمودیہ جھنگ کا فتویٰ مسلمانوں کے لیے شیعہ کے جنازہ میں شرکت کرنا


شیعہ اثناءِ عشریہ تحریفِ قرآن اور انکارِ بیعت حضرت علیؓ اور انکار صحبتِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور تہمت حضرت عائشہ صدیقہؓ جیسے کفریہ عقائد و نظریات رکھتے ہیں جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتابوں میں وہ کفریہ عقائد و نظریات درج ہیں۔

شیعہ اثناءِ عشریہ ان کفریہ عقائد و نظریات کی وجہ سے کافر ہیں مسلمانوں سے ان کا نکاح، شادی بیاہ جائز نہیں ہے، حرام ہے مسلمانوں کے لیے ان کے جنازہ میں شرکت جائز نہیں ہے، ان کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، ان سے چندہ لینا جائز نہیں ہے، ان کے اداروں کو دینی ادارہ کہنا اور ان کی تنظیم کو اسلامی اور دینی تنظیم کہنا جائز نہیں ہے، ان کو دینی جماعتوں اور دینی اتحاد میں شامل کرنا درست نہیں ہے بلکہ ان سے میل جول رکھنا بھی جائز نہیں ہے، خصوصاً جب مسلمانوں کے عقائد و نظریات کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ شیعہ روافض سے محبت اور دوستی اور ان سے میل جول سے پرہیز کریں اور اپنے اور دیگر مسلمانوں کے عقائد و نظریات کا تحفظ کریں۔ 

(فتویٰ امام اہلِ سنت مع تائید علماء اہلِ سنت: صفحہ 50)