اہلِ سنت نے چہرے کی چوڑائی کے لحاظ سے جو مقدار بتائی ہے وہ چہرے کے عمومی معنیٰ کو ملحوظ رکھ کر بتائی ہے اور اس میں ہر آدمی کو یقین حاصل ہو جاتا ہے اور سب کے لیے حکم برابر ہے اور اس میں سہولت بھی ہے۔ بخلاف اس مقدار کے جو شیعہ حضرات بتاتے ہیں کہ درمیان والی انگلی اور انگوٹھے کو کھولا جائے تو ان کے درمیان جو جگہ ہے اس کو دھویا جائے۔ چہرے میں مقدار یہی ہے مگر اس پر کوئی صحیح اور صریح روایت موجود نہیں ہے۔
پھر اس میں دشواری بھی ہے کہ ایک ایسا آدمی جس کا چہرہ چوڑا ہو اور اس کے ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی ہوں کہ اس کے آدھے چہرے کو بھی نہ گھیرتی ہوں، یا ایسا آدمی ہے جس کا چہرہ پتلا ہو اور ہاتھ کی انگلیاں اتنی بڑی ہوں کہ چہرے پر رکھتے وقت دونوں کانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہوں، تو ایسا آدمی کیا کرے؟ تو اس کا حل شیعہ حضرات نے یہ بتایا کہ وہ آدمی دوسرے حضرات کو دیکھے کہ وہ عموماً کتنا حصہ دھوتے ہیں، وہ بھی وہی تک دھوئے۔
(توضیح المسائل للخمینی: صفحہ37 توضیح المسائل لحافظ بشیر حسین نجفی: صفحہ 89)
شیعہ حضرات کی بتلائی ہوئی چہرے کی چوڑائی کے لحاظ سے مقدار میں سراسر دشواری اور پھر شک بھی رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جتنا حصہ فرض ہے وہ دھویا نہ جا سکا ہو۔ اسی لیے شیعہ علماء کو یہ کہنا پڑا کہ اگر اس مقدار کا ذرا سا حصہ بھی چھوٹ جائے تو وضو باطل ہو گا۔ لہٰذا یہ یقین کرنے کے لیے کہ اتنا ضروری حصہ پورا دھل گیا ہے تھوڑا تھوڑا ادھر سے بھی دھو لینا چاہیے۔
(توضیح المسائل لحافظ بشیر حسین نجفی: صفحہ 89)
اور خمینی لکھتے ہیں: اور یہ یقین پیدا کرنے کے لیے کہ یہ مقدار پورے طور پر دھوئی جا چکی ہے کچھ حصہ اطراف میں سے بھی دھو لیا جائے۔
(تحریر الوسیلہ: جلد1 صفحہ 21 توضیح المسائل مترجم: صفحہ 37)
اور خود پروفیسر غلام صابر لکھتے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کو دھونے میں واجب مقدار وہی ہے جو پہلے گزری، لیکن یقین کرنے کے لیے آیا کہ واجب مقدار کو دھو لیا گیا ہے یا نہیں، تھوڑا تھوڑا ادھر ادھر سے بھی دھو لینا چاہیے۔ (صفحہ13)
جب شیعہ حضرات کی بیان کردہ مقدار میں یقین حاصل نہیں ہوتا بلکہ شک رہتا ہے اور اہلِ سنت کی بیان کردہ مقدار میں یقین اور اطمینان حاصل ہو جاتا ہے، تو اس مقدار کو لینا چاہیے جس سے یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔