حضرت مولانا مہر محمد رحمۃاللہ کا فتویٰ شیعہ کے نزدیک مسلمان نجس ہے، ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں
خمینی کی معتبر کتاب "تحریر الوسیلہ" سے چند حوالے ملاحظہ ہوں:
1: ناصبی (سنی مسلمان) اور خارجی خدا ان پر لعنت بھیجے، بلا تقوف نجس ہیں۔
(تحریر الوسیلہ: جلد 1 صفحہ 118)
2: تمام فرقوں کا ذبیحہ جائز ہے سوائے نواصب (مسلمانوں) کا، اگرچہ اسلام کا اظہار بھی کریں۔
(تحریر الوسیلہ: جلد 2 صفحہ 146)
3: ہر قسم کا کافر یا جن کا حکم کافروں جیسا ہے جیسے نواصب (سنی) اگر شکاری کتا شکار پر چھوڑ دے تو ایسا شکار حلال نہیں۔
(تحریر الوسیلہ: جلد 2 صفحہ 136)
4: کافر یا وہ جو کافر کے حکم میں ہے مثل نواصب (اہلِ سنت) و خوارج، ان کی نمازِ جنازہ پڑھنی جائز نہیں ہے۔
(تحریر الوسیلہ: جلد 1 صفحہ79)
5: نفلی صدقہ بھی ناصبی (سنی) اور حربی کو دینا جائز نہیں، اگرچہ وہ رشتہ داری کیوں نہ ہو۔
(تحریر الوسیلہ: جلد 1 صفحہ91)
6: اور قوی یہ ہے کہ ناصبیوں (سنیوں) کو اہلِ حرب (جنگ لڑنے والے کافروں) کے ساتھ ملایا جائے چنانچہ ناصبیوں (سنیوں) کا مال جہاں اور جس طریقے سے ملے، لے لیا جائے اور اس میں سے خمس نکالا جائے۔
(تحریر الوسیلہ: جلد1 صفحہ 352)
نوٹ: یہ وہی خمینی ہے جس کے متعلق ہمارے بے ضمیر صحافی اور ایرانی ایجنٹ یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ وہ نہ سنی ہیں نہ شیعہ وہ خالص مسلمان ہیں اور عالمِ اسلام کے اتحاد کے داعی ہیں۔
(اسلام اور شیعیت کا تقابلی جائزہ: صفحہ110)
