پروفیسر غلام صابر صاحب شیعہ حضرات کی ترجمانی کرتے ہوئے وضو میں چہرے کی مقدار یوں بیان کرتے ہیں: لمبائی میں پیشانی کے اوپر اس جگہ سے لے کر جہاں سر کے بال اگتے ہیں اور ٹھوڑی کے آخری کنارے تک۔ چوڑائی میں بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے پھیلاؤ میں جتنی جگہ آ جائے۔ (صفحہ، 12)
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک چہرہ دھونے میں لمبائی کے لحاظ سے پیشانی شروع ہونے سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی کے لحاظ سے ایک کان سے دوسرے کان تک ہے۔ اس لیے کہ اسی کو چہرہ کہتے ہیں۔ حضورﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
سَجَدَ وَجهِی لِلَّذِی خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمعَهُ وَبَصَرَهُ
(مسلم: جلد 1 صفحہ263)
ترجمہ: میرے چہرے نے اس ذات کے سامنے سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا اور صورت بخشی، اور اس میں کان اور آنکھ نکالے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ کان چہرے سے ہی نکالے گئے ہیں اور کان تک کا حصہ چہرہ ہی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کان بھی چہرے میں شامل ہیں۔ مگر ان کا حکم چونکہ الگ موجود ہے، اس لیے کان چہرے کے حکم سے الگ ہوں گے۔ اور وہ حضورﷺ کا یہ فرمان ہے:
الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ
(ترمذی: جلد 1 صفحہ7 ابنِ ماجہ: صفحہ، 35 دارقطنی: جلد 1 صفحہ 36)
ترجمہ: دونوں کان سر میں سے ہیں۔ یعنی ان کا سر کی طرح مسح ہے۔
نیز ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک آدمی کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اس کو کھول دے، اس لیے کہ داڑھی چہرے کا حصہ ہے۔
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد 2 صفحہ23)
اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا تو اس میں فرمایا:
واعلموا ان الاذنین من الراس
(مسند احمد: جلد1 صفحہ 61)
ترجمہ: اور جان لو کہ بے شک کان سر میں سے ہیں۔