حضرت مولانا عبید اللہ انور حقانی کا فتویٰ شیعہ کا جنازہ پڑھنا
شیعہ اثناءِ عشریہ قطعاً خارج از اسلام ہیں شیعوں کا کفریہ بنیادی عقیدہ تحریفِ قرآن محل تردد نہیں علاوہ اس کے دوسرے وجوہ کفر بھی ہیں لہٰذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً نا جائز اور ان کا ذبیحہ حرام، ان کا چندہ مسجد میں لیا لینا ناروا، ان کا جنازہ پڑھنا، ان کو اپنے جنازے میں شریک کرنا جائز نہیں۔
(دفاعِ صحابہ اور علمائے دیوبند: صفحہ 126)
حضور اکرمﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گستاخ کا جنازہ پڑھانے سے انکار فرمایا:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ اس پر جنازہ پڑھائیں تو حضورِ اکرمﷺ نے جنازہ نہیں پڑھایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم نے آپﷺ کو اس سے پہلے کسی پر جنازہ نہ پڑھاتے کبھی نہیں دیکھا ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بغض رکھا۔
(دفاعِ صحابہ اور علمائے دیوبند: صفحہ 96)
