پروفیسر صاحب نے ان روایات کے لیے کنز العمال کا حوالہ دیا ہے، مگر ہمیں ان الفاظ سے یہ روایت نہیں مل سکی جو الفاظ پروفیسر صاحب نے لکھے ہیں
البتہ ایک روایت ان الفاظ سے ہے:
يَمِينِی لِوَجهی وَشِمَالِی لِفَرجِی
(کنز العمال: جلد9 صفحہ 187)
ترجمہ: میرا دایاں ہاتھ چہرے کے لیے اور بایاں ہاتھ شرمگاہ یعنی استنجا کے لیے ہے۔
وضو سے متعلق دوسری روایات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس روایت کا مطلب یہ ہو گا کہ چہرہ دھونے میں اصل دایاں ہاتھ ہے اور بایاں ہاتھ اس کے تابع ہے۔ اور استنجا کرنے میں اصل بایاں ہاتھ ہے، اور پانی وغیرہ ڈالنے کے لیے دائیں ہاتھ سے مدد لی جا سکتی ہے۔ پھر یہ روایات ان صحیح روایات کے خلاف ہیں جن میں دونوں ہاتھوں کے ساتھ چہرہ دھونے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے:
أَخَذَ غُرفَةً مِن مَاءٍ فَجَعَلَ بِهَا هكَذَا أَضَافَهَا إِلَىٰ يَدِهِ اليُسرَىٰ فَغَسَلَ بِهَا وَجهَهُ
(بخاری: جلد 1 صفحہ26)
ترجمہ: ایک چلو پانی لیا، پھر اس کو دوسرے ہاتھ کے ساتھ ملایا، پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔ اسی طرح ایک روایت حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ہے:
ثُمَّ أَدخَلَ يَدَهُ فَاغتَرَفَ بِهِمَا فَغَسَلَ وَجهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
(بخاری: جلد1 صفحہ33)
ترجمہ: پھر آپﷺ نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے دونوں ہاتھوں سے چلو بھرا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:
ثُمَّ أَدخَلَ يَدَيهِ فِی الإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفنَةً مِن مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَىٰ وَجهِهِ
(ابو داؤد: جلد1 صفحہ16)
ترجمہ: پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے برتن میں داخل کر کے ان دونوں کے ساتھ ایک لپ پانی لیا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہایا۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ ایک ہاتھ برتن میں داخل کر کے پانی لیا اور اس سے چہرہ دھویا اور بعض روایات میں ہے کہ دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرہ دھویا، اور بعض روایات میں ہے کہ ایک ہاتھ برتن میں داخل کر کے پانی لیا اور اس کے ساتھ دوسرا ہاتھ ملا کر دونوں ہاتھوں سے چہرہ دھویا۔ ان روایات میں اس بات پر دلیل ہے:
عَلَىٰ جَوَازِ الأُمُورِ الثَّلَاثَةِ، وَأَنَّ الجَمِيعَ سُنَّةٌ
(نووی، شرح مسلم: جلد1 صفحہ123)
ترجمہ: کہ تینوں صورتیں جائز ہیں اور ان میں سے ہر ایک صورت سنت ہے۔
اس لیے پروفیسر غلام صابر کا چہرہ دھونے میں بائیں ہاتھ کے استعمال کو خلافِ فطرت کہنا درست نہیں ہے، جیسا کہ مذکورہ روایات سے ظاہر ہے۔ وضو میں دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ کا استعمال ثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:
ثُمَّ مَسَحَ بِيَدَيهِ كِلتَيهِمَا مَرَّةً
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ135)
ترجمہ: پھر اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ ایک مرتبہ سر کا مسح کیا۔ اور خود پروفیسر صاحب نے لکھا ہے کہ بائیں ہاتھ کے ساتھ مسح جائز ہے۔ (صفحہ 14)
اگر وضو میں مسح کرتے وقت دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا جائز ہے، تو چہرہ دھوتے وقت دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ کے استعمال کو خلافِ فطرت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔