بنو ہاشم سیدنا امیر معاویہؓ کی نگاہ میں
مولانا اقبال رنگونیسیدنا امیرِ معاویہؓ پر یہ الزام کہ ان کے دل میں بنو ہاشم کے لیے بوجھ تھا، سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہیں ہے آپ بنو ہاشم کی سیادت و عظمت کا کھل کر اقرار کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ عزت و شرافت میں بنو امیہ کا مقام زیادہ ہے یا بنو ہاشم کا؟
سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس کے جواب میں کہا:
كُنَّا أَكْثَرَ أَشْرَافاً وَكَانُوا هُمْ أَشْرَفَ، فِيهِمْ وَاحِدٌ لَمْ يَكُنْ فِی بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ مِثْلُ هَاشِمٍ، فَلَمَّا هَلَكَ كُنَّا أَكْثَرَ عَدَداً وَأَكْثَرَ أَشْرَافاً، وَكَانَ فِيهِمْ عَبْدُ المُطَّلِبِ لَمْ يَكُنْ فِينَا مِثْلُهُ، فَلَمَّا مَاتَ صِرْنَا أَكْثَرَ عَداً وَأَكْثَرَ أَشْرَافاً، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ وَاحِدٌ كَوَاحِدِنَا، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا كَقَرَارِ الْعَيْنِ حَتَّى قَالُوا: مِنَّا نَبِی، فَجَاءَ نَبِی لَمْ يَسْمَعِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِمِثْلِهِ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ يُدْرِكُ هَذِهِ الْفَضِيلَةَ وَهَذَا الشَّرَفَ؟ (البدایہ: جلد 8 صفحہ 138)
ہم بہت زیادہ اشراف والے ہیں اور وہ بھی اشرف ہیں ان میں ہاشم ایک ایسا آدمی ہے کہ بنی عبدِ مناف میں اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے جب وہ فوت ہو گئے تو ہم زیادہ تعداد اور زیادہ اشراف والے ہو گئے اور ان میں جنابِ عبدالمطلب بھی تھے، ان جیسا ہم میں کوئی نہ تھا۔ جب وہ فوت ہو گئے تو ہم زیادہ تعداد اور زیادہ اشراف والے ہو گئے اور ان میں ایک بھی ہمارے ایک کی طرح نہ تھا اور ابھی ہماری آنکھ ٹکی بھی نہ تھی کہ ان میں اعلان ہوا کہ ہم میں نبیﷺ ہیں اور نبی کریمﷺ آئے جس کی مثل اولین و آخرین نے نہ سنی تھی، یعنی حضرت محمدﷺ، پس یہ شرف اور فضیلت اب کس کو حاصل ہو سکتی ہے؟
سو اس میں کوئی شک نہیں کہ حضورِ اکرمﷺ کے یہ دونوں شہزادے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص خلفاءِ ثلاثہؓ کے ہاں ہمیشہ سے ہی قابلِ احترام و اکرام مانے گئے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اللہ کے رسولﷺ ان دونوں سے بہت پیار فرماتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کو اپنے ساتھ محبت رکھنا فرماتے تھے رہی بات خود اہلِ بیتؓ کے بزرگوں کی تو انہوں نے بھی حضورِ اکرمﷺ کے خلفائے کرام سے ہمیشہ عقیدت و محبت کے رشتے قائم رکھے تھے اور کبھی اس رشتے پر کوئی آنچ نہیں آنے دی تھی۔
حافظ ابنِ تیمیہؒ 728ھ ایک شیعہ عالم کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَالنَّقْلُ الثَّابِتُ عَنْ جَمِيعِ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ بَنِی هَاشِمٍ مِنَ التَّابِعِينَ، وَتَابِعِيهِمْ مِنْ وَلَدِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَوَلَدِ الْحَسَنِ، وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَوَلَّوْنَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَكَانُوا يُفَضِّلُونَهُمَا عَلَى عَلِيٍّ، وَالنُّقُولُ عَنْهُمْ ثَابِتَةٌ مُتَوَاتِرَةٌ۔
(منہاج السنہ: جلد 7 صفحہ 396)
بنی ہاشم کے تمام علماءِ اہلِ بیتؓ، تابعین و تبع تابعین جیسے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی اولاد وغیرہ بلا شبہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی محبت کا دم بھرتے تھے اور انہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ پر فضیلت دیا کرتے تھے۔ اور ان سے یہ بات تواتر کے ساتھ نقل ہو کر ہم تک پہنچی ہے۔
(ترجمہ: جلد 2 صفحہ 376)
