حضرت مولانا مفتی رضاء الحق رحمۃاللہ کا فتویٰ (استاذ الحدیث…

حضرت مولانا مفتی رضاء الحق رحمۃاللہ کا فتویٰ (استاذ الحدیث و مفتی دار العلوم زکریا جنوبی افریقہ) اسماعیلی فرقے کے عقائد کی تحقیق اور ان کے جنازے میں شرکت کرنے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم


سوال:

الف: کیا اسماعیلی فرقے کے عقائد صحیح ہیں یا نہیں؟ اگر وہ کفریہ عقائد رکھتے ہیں تو دلائل پیش فرما دیں اس لیے کہ میں نے سنا ہے کہ وہ ہمارا کلمہ پڑھتے ہیں؟

ب: کیا ہم ان کے جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہمارے علماء ان کی نمازِ جنازہ پڑھا سکتے ہیں؟ نیز ان کو ہمارے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر سکتے ہیں؟

ج: کیا ہم میں سے کوئی اسماعیلی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے؟ اور کیا ہمارے علماء نکاح پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:

الف:اسماعیلی فرقہ کے عقائد مندرجہ ذیل ہیں:  

1: اللہ تعالیٰ کو صفات سے خالی مانتے ہیں۔  

2: یہ لوگ عقلِ اول کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق پیدا کی پھر اس سے تمام مخلوق پیدا ہوئی، نیز یہ عقلِ اول اللہ تعالیٰ کی صفات کے حامل ہیں۔  

3: معجزات کو باطل سمجھتے ہیں۔  

4: ختمِ نبوت کا انکار کرتے ہیں اور محمد بن اسماعیل کو آخری نبی مانتے ہیں۔  

5: اولیاء کی اطاعت ان کے نزدیک فرض ہے۔  

6: ان کے ائمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نور ہیں اور ان کے اجسام عام انسانوں کے اجسام کی طرح نہیں ہیں۔  

7: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے ہیں خصوصاً سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ سے۔  

8: جنت کی لذتیں اور جہنم کا عذاب ان کے نزدیک معنوی ہے حسی نہیں۔  

9: یہ لوگ تاویلات بہت کرتے ہیں حتیٰ کہ یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی ہر آیت کا ایک باطنی معنیٰ ہے اگرچہ آیتِ صریح کیوں نہ ہو۔  

10: قیامت کا انکار کرتے ہیں اور تناسخ کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

لہٰذا جس فرقہ میں مذکورہ بالا عقائد ہوں اس فرقہ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ یہ عقائد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے ہیں۔

ب:ان کے جنازہ میں شرکت ممنوع ہے اور نمازِ جنازہ پڑھانا بھی جائز نہیں ہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ احکام مسلمانوں کے ساتھ خاص ہیں اور یہ لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں البتہ غیر مسلم ممالک میں جو قبرستان مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں ہم حکومت کے قانون کے مطابق کسی ظاہری کلمہ گو کو روکنے کا حق نہیں رکھتے لہٰذا اس سلسلہ میں ہم مجبور ہیں۔

احسن الفتاویٰ میں ہے: 

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ الخ۔

(سورة التوبہ: آیت 84) 

مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ الخ۔ 

(سورة التوبہ: آیت 113) 

شیعہ کا کفر بھی ظاہر ہے اور مذکورہ آیات میں صراحتاً کفار کی نمازِ جنازہ پڑھنے، ان کی قبر پر جانے اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

ج: عقائد سے واضح ہو گیا کہ یہ لوگ کافر ہیں لہذا نہ ان کے ساتھ رشتہ نکاح قائم کرنا صحیح ہے اور نہ ہی ان کا نکاح پڑھانا صحیح ہے۔

قال الله تعالیٰ:

وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ الخ۔

(سورۃ البقرہ آیت 221)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

لا يجوز نكاح المجوسات و يدخل فی عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التی استحسنوا ها و المعطلة و الزنادقة و الباطنية و الاباحية و كل مذهب يكفر به معتقده كذا فی فتح القدير۔ 

(فتاویٰ دار العلوم زکریا: جلد1 صفحہ171)