سیدنا حسنین کریمینؓ سیدنا امیر معاویہؓ کی نگاہ میں
مولانا اقبال رنگونیسیدنا امیرِ معاویہؓ حضورِ اکرمﷺ کے ان دونوں نواسوں کے ادب و احترام اور ان کی عقیدت و خدمت میں کبھی پیچھے نہیں رہے آپؓ کی جانب سے ان دونوں شہزادوں کے لیے ایک بڑی رقم سالانہ بھیجی جاتی تھی اور سیدنا حسنین کریمینؓ ان تحائف و وظائف کو بخوشی قبول کرتے اور اس سے اپنے گھر کی ضروریات کے علاوہ قرض بھی ادا کرتے اور اس سے غرباء و مساکین کی خدمت بھی کرتے تھے۔
مفسر حافظ ابنِ کثیرؒ 774ھ لکھتے ہیں:
فَلَمَّا اسْتَقَرَّتِ الْخِلَافَةُ لِمُعَاوِيَةَ كَانَ الْحُسَيْنُ يَتَرَدَّدُ إِلَيْهِ مَعَ أَخِيهِ الْحَسَنِ فَيُكْرِمُهُمَا مُعَاوِيَةُ إِكْرَاماً زَائِداً، يَقُولُ لَهُمَا مَرْحَباً وَأَهْلاً، وَيُعْطِيهِمَا عَطَاءً جَزِيلاً۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 150)
جب سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت قائم ہو گئی تو سیدنا حسینؓ اپنے بھائی سیدنا حسنؓ کے ساتھ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس آمدورفت رکھتے تھے۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ ان دونوں بھائیوں کا بے حد اکرام فرماتے تھے اور انہیں خوش آمدید کہتے تھے اور انہیں بہت زیادہ عطیات دیا کرتے تھے۔
سیدنا حسنؓ کے انتقال کے بعد بھی سیدنا حسینؓ ہر سال سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ ان کا بہت زیادہ اکرام فرماتے تھے اور ان حضرات کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔
وَلَمَّا تُوُفِّی الْحَسَنُ كَانَ الْحُسَيْنُ يَفِدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي كُلِّ سَنَةٍ فَيُعْطِيهِ وَيُكْرِمُهُ۔
(البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 151)
ترجمہ: سیدنا حسنؓ کے انتقال کے بعد سیدنا حسینؓ سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس ہر سال آیا کرتے تھے اور جب وہ تشریف لاتے تو آپؓ ان کو عطیات دیتے اور ان کا اکرام فرماتے تھے۔
ایک مرتبہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس آئے تو آپؓ نے نہ صرف یہ کہ انہیں خوش آمدید کہا بلکہ آپؓ کو 30 لاکھ درہم دیے:
مرحبا وأهلا بابن رسول اللہ وأمر له بثلاث مائۃ ألف۔
(ایضاً: جلد 8 صفحہ 137)
شیعہ مؤرخ مرزا محمد تقی سپر 1297ھ نے بھی اس بات کا کھلا اعتراف کیا ہے:
و مقرر داشت کہ ہر سال ہزار ہزار درہم از بیت المال بہ حضرتِ او برند و بیرون از ایں مبلغ ہمیشہ خدمتش را بہ عطایا و جوائزِ متکاثرہ می داشت۔
(ناسخ التواریخ: جلد 6 صفحہ 78)
سیدنا امیرِ معاویہؓ کا معمول تھا کہ وہ ہر سال ہزار ہزار درہم بیتُ المال سے سیدنا حسینؓ کی خدمت میں بھیجتے تھے علاوہ ازیں قیمتی تحفے تحائف بھی کثرت سے روانہ کرتے تھے۔
ایک دن سیدنا حسینؓ کی خدمت میں ایک سائل آیا اور عرض کیا: اے فرزندِ رسولﷺ! میں بال و بچوں والا اور درویش آدمی ہوں، آپؓ مجھے آج کا کھانا عنایت کیجیے۔ سیدنا حسینؓ نے فرمایا: کچھ دیر ٹھہر جاؤ، آج ہمارا وظیفہ آنے والا ہے، وہ آ جائے تو میں آپ کو دوں گا تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف سے پانچ تھیلیاں آئیں، ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار تھے قاصد نے آپؓ کی خدمت میں لا کر پیش کیں اور عرض کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ معذرت فرما رہے تھے کہ یہ مختصر سی مقدار ہے، اسے آپؓ اپنے استعمال میں لے آئیں سیدنا حسینؓ نے انہیں قبول فرما کر اسی وقت وہ پانچ تھیلیاں اسی سائل کو دے دیں اور اس سے معذرت بھی کی۔
(سیرتِ امیرِ معاویہؓ: جلد 1 صفحہ 559)
مرزا احمد تقی شیعی 1297ھ لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ یمن سے لدا ہوا بیتُ المال کا سامان مدینہ سے گزر رہا تھا تو سیدنا حسینؓ نے وہ سارا اتار کر خود رکھ لیا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کو لکھا کہ مجھے اس کی ضرورت تھی اس لیے میں نے لے لیا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے جواب دیا کہ وہ مال ادھر آتا تو میں آپ کو بھیج دیتا، تاہم یقین رکھیں کہ مجھے آپ کے اس عمل سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی ہے اور جب تک دم میں دم ہے آپ کو کبھی تکلیف نہ ہو گی میں آپ کا مرتبہ جانتا ہوں اور یہ عمل معاف کرتا ہوں۔
ودر زمانِ من بر تو صعب نمی افتد چہ بر قدر و منزلتِ تو دانایم و معفو میدارم۔
(ناسخ التواریخ: جلد 6 صفحہ 57 ، قاتلانِ حسین: صفحہ 3 مولانا عبد الشکور صاحب مرزا پوری)
معروف عالم ملا باقر مجلسی 1111ھ لکھتا ہے:
قطب راوندی نے سیدنا صادقؒ سے روایت کی کہ ایک روز سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ اور سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ سے فرمایا کہ جائزہ (یعنی وظیفہ) سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جانب سے پہلی تاریخ کو تمہیں پہنچے گا جب پہلی تاریخ ہوئی جس طرح حضرت نے فرمایا تھا جائزہ سیدنا امیرِ معاویہؓ پہنچا ان دنوں سیدنا حسنؓ بہت قرضدار تھے جو کچھ حضرات کے لیے اس نے بھیجا تھا اسے اپنا قرض ادا کیا اور باقی اہلِ بیتؓ اور اپنے شیعوں میں تقسیم کر دیا اور سیدنا حسینؓ نے بھی اپنا قرض ادا کیا اور جو کچھ باقی رہا اس کے تین حصے کیے ایک حصہ اہلِ بیتؓ اور شیعوں کو دیا اور دو حصے اپنے عیال کے لیے بھیجے اور سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ نے اپنا قرض ادا کیا اور جو باقی بچا وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ملازم کو انعام میں دیا اور جب یہ خبر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو پہنچی تو اس نے سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کے لیے بہت مال بھیجا۔
(جلاء العیون مترجم: جلد 1 صفحہ 259 لکھنو)
شیعہ عالم عبدالحمید بن ابی الحدید 656ھ لکھتا ہے کہ:
سیدنا امیرِ معاویہؓ زمین میں سب سے پہلے آدمی ہیں جنہوں نے دس دس لاکھ درہم لوگوں کو بطورِ عطیہ دیے وہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیتے تھے۔ اس طرح سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اور سیدنا عبداللہ بن جعفرؓ کو بھی اتنی ہی رقم دیا کرتے تھے۔(شرح نہج البلاغہ: جلد 3 صفحہ 705)
اس سب کے باوجود اب بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان کے ساتھ کبھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا یا سیدنا حسنین کریمینؓ نے کبھی یہ کہہ کر ان سے وظیفہ یا تحفہ نہیں لیا کہ ہم غصب کی چیز نہیں لیتے تو اس جھوٹ کا کوئی علاج نہیں ہے اور یہ شیعہ علماء کے اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنے والے بھی شیعہ کے اکابر ہی تھے۔
حضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ ایک بحث میں لکھتے ہیں:
سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت تک سیدنا حسینؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے تعلقات بہت اچھے رہے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی پوری کوشش تھی کہ وہ روابط جو انہوں نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے ساتھ نہایت بہترین انداز میں قائم کر رکھے ہیں ٹوٹنے نہ پائیں۔ شیخ ابنِ بابویہ قمی سیدنا زین العابدینؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے آخری وقت میں یزید کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھی:
حقِ حرمت و عظمت و منزلت و قرابتِ ابا و پیغمبر بہ یاد آور، و او را بہ کردہ ہایِ او مؤاخذہ مکن، و روابطی کہ من با او در این مدّت محکم کردہ ام قطع مکن۔
(جلاء العیون فارسی: صفحہ 592)
ترجمہ: سیدنا حسینؓ کے حقِ احترام کو پہچاننا اور انہیں جو قرب اور درجہ حضورِ اکرمﷺ کے ہاں حاصل ہے اسے یاد رکھنا، ان کے کسی عمل پر ان سے مواخذہ نہ کرنا اور وہ تعلقات جو میں نے اب تک ان سے نہایت مضبوط کر رکھے ہیں یعنی ہرگز قطع نہ کرنا۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی زندگی تک وہ وظیفہ وصول کرتے رہے جو سیدنا حسنؓ کے ساتھ بوقتِ صلح مقرر ہوا تھا اور سیدنا امیرِ معاویہؓ آخری دن تک کوشاں رہے کہ اہلِ بیتؓ کے ان بزرگوں کے ساتھ تعلقات نہایت اچھے اور محبت کے انداز میں قائم رکھے جائیں۔
(عقبات: جلد 1 صفحہ 201)
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے انتقال تک سیدنا حسینؓ کے ساتھ یہ روابط برابر قائم رہے اور ایک دوسرے کے اکرام و احترام میں بھی کبھی فرق نہیں آنے دیا لڑانے والوں کی سازشوں کے باوجود سیدنا حسینؓ نے کبھی ان کی مخالفت میں آواز نہیں اٹھائی دونوں جانب سے عزت و عظمت برابر پر قائم رہی اس پر اہلِ سنت اور شیعہ کی کتابیں گواہ ہیں اس تاریخی شہادت کے باوجود بھی کوئی شخص سیدنا امیرِ معاویہؓ پر اپنا غصہ نکالے تو یہ اس کی بدقسمتی ہوگی۔
