دوسرا مسئلہ امامِ منتظر (امام مہدی رحمۃاللہ علیہ) - ردِ…

دوسرا مسئلہ امامِ منتظر (امام مہدی رحمۃاللہ علیہ)

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

جناب پروفیسر صاحب اپنے طبقہ سے خطاب کرتے ہوئے ان سے پوچھتے ہیں: کہ کیا ہم نے امامِ زمانہ کے استقبال کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں؟ کیا ہم نے اپنے گھروں کو اس قابل بنا لیا ہے کہ حجتِ خدا تشریف لا سکیں؟ (صفحہ 6)

یہ پروفیسر صاحب نے اپنے طبقہ کو خطاب کیا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم صرف ان مسلمانوں کی توجہ اس طرف دلانا چاہتے ہیں جنہوں نے پروفیسر صاحب کی کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کو توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ جس امامِ زمانہ کا پروفیسر صاحب نے ذکر کیا ہے، اس میں بھی مسلمانوں کا نظریہ ان سے مختلف ہے۔ حضورﷺ نے قیامت کی علامتوں میں سے یہ علامت بھی بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، جو آسمانوں پر زندہ موجود ہیں، وہ آسمان سے اتریں گے۔ ان کے آسمان سے اترتے وقت امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ کی حکمرانی ہو گی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول کے بعد بعض نمازیں حضرت مہدی رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے پڑھیں گے۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک امام مہدی رحمۃ اللہ اس قربِ قیامت کے دور میں پیدا ہوں گے۔ ابتدا میں ان کے متعلق کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے علماء انہیں پہچانیں گے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ ظہورِ مہدی سے یہی مراد ہے کہ پہلے ان کی حیثیت لوگوں کو معلوم نہ ہو گی اور پھر علماء کے بیعت کرنے کے بعد ان کی حیثیت نمایاں ہو جائے گی۔ اہلِ سنت کے ہاں ظہورِ مہدی کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ پہلے چھپے ہوئے ہوں گے اور پھر ظاہر ہو جائیں گے۔

اور حدیث میں ہے کہ ان کا نام نبی کریمﷺ کے نامِ مبارک کی طرح محمد ہو گا اور ان کے والد کا نام حضورﷺ کے والدِ ماجد کے نام کی طرح عبداللہ ہو گا۔  

(ابو داؤد: جلد 2 صفحہ232)

اور امام مہدی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے۔ محدثینِ کرام رحمہُم اللہ کے فرمان کے مطابق وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ جیسا کہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے مرقات جلد10 صفحہ174 میں، شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ نے لمعات جلد 4 صفحہ321 میں اور امام سیوطی رحمۃ اللہ نے الحاوی للفتاویٰ جلد2 صفحہ 85 میں ذکر کیا ہے۔