سیدنا حسینؓ سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دورِ خلافت میں اپنے والد کے معاون بنے رہے اور آپؓ کی شہادت کے بعد اپنے بھائی سیدنا حسنؓ کے ساتھ رہے پھر سیدنا حسنؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے، لیکن سیدنا حسینؓ کا مؤقف سیدنا حسنؓ سے کچھ مختلف تھا تاہم آپ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں کی اور آپ ان کے ماتحت لڑی جانے والی لڑائیوں میں برابر دادِ شجاعت دیتے رہے ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت نہیں کی تھی وہ جھوٹ کہتے ہیں معلوم نہیں شیعہ ان روایات کا انکار کرنے پر کیوں اتر آئے ہیں جنہیں خود ان کے مستند علماء قبول کر چکے ہیں کیا جھوٹ اور محض انکار سے کبھی حقائق چھپ سکتے ہیں؟
شیعہ علماء لکھتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ جب بیعت کر چکے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا حسینؓ سے کہا:
قال للحسین علیہ السلام: قم فبایع، فقام فبایع، ثم قال: یا قیس قم فبایع فالتفت الی الحسین علیہ السلام ینظر ما یأمرہ، فقال یا قیس انہ امامی یعنی الحسن علیہ السلام۔
(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 16، عوالم العلوم صفحہ 150 طبع قم، رجال کشی: صفحہ 110، جلاء العیون: جلد 1 صفحہ 398)
ترجمہ: سیدنا حسینؓ اٹھیں اور بیعت کریں پس سیدنا حسینؓ اٹھے اور انہوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کی سیدنا امیرِ معاویہؓ نے پھر قیس سے کہا کہ اٹھو اور بیعت کرو قیس نے سیدنا حسینؓ کی طرف دیکھا کہ وہ کیا حکم فرماتے ہیں سیدنا حسینؓ نے فرمایا: اے قیس اٹھ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کر اس لیے کہ وہ میرے امام بھی ہیں۔
مشہور عالم شیخ طوسی نے بھی اپنی کتاب "امالی" میں سیدنا حسنین کریمینؓ کی بیعت کا ذکر کیا ہے۔
(دیکھیے صفحہ 180)
اس وقت کچھ لوگ چاہتے تھے اور دباؤ ڈال رہے تھے کہ سیدنا حسینؓ اس بیعت کو توڑ دیں اور اپنے بھائی سیدنا حسنؓ کے مؤقف کو سرِ عام مسترد کر دیں، مگر آپؓ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور آپؓ اپنی بیعت پر آخر تک قائم رہے آپؓ نے ان لوگوں سے کہا:
فقال الحسین: انا قد بایعنا وعاہدنا ولا سبیل الی نقض بیعتنا۔
(اخبار اطوال: صفحہ 220)
ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی بیعت کر چکے ہیں اور ان سے عہد ہو چکا ہے، اس بیعت کو توڑنے کا ہمارے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔
آپؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نام ایک خط لکھ کر بھی انہیں پورا اطمینان دلایا تھا:
فکتب الیہ الحسین: اتانی کتابک وانا بغیر الذی بلغک عنی جدیر والحسنات لا یہدی لہا الا اللہ وما اردت لک محاربۃ ولا علیک خلافا۔
سیدنا حسینؓ نے لکھا کہ مجھے آپؓ کا خط ملا جو کوئی بات میری جانب سے آپؓ تک پہنچی ہے وہ میرے لائق نہیں ہے نیک کاموں کی طرف اللہ ہی ہدایت دیتا ہے میں آپؓ سے لڑائی کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی آپؓ کی مخالفت مقصود ہے۔
جب سیدنا حسنؓ وفات پا گئے تو وہی لوگ جو سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مابین صلح و مصالحت کو ناپسند کیے ہوئے تھے، پھر ایک مرتبہ اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدنا حسینؓ کو خطوط لکھ کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے خلاف بھڑکانے لگے اور ان کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑنے پر ابھارنا چاہا، مگر آپؓ ان کی باتوں میں نہ آئے اور اپنے عہد کی پوری پاسداری رکھی آپؓ نے ان سے کہا کہ ہمارے درمیان عہد و معاہدہ ہو چکا ہے اب جب تک سیدنا امیرِ معاویہؓ کی مدتِ خلافت ختم نہیں ہو جاتی، ہم اپنے عہد کو کبھی نہ توڑیں گے۔
شیعہ کے معروف عالم شیخ مفید محمد بن نعمان 413 ہجری کا بیان دیکھیے:
لما مات الحسن علیہ السلام تحرکت الشیعۃ بالعراق، وکتبوا الی الحسین علیہ السلام فی خلع معاویۃ والبیعۃ لہ، فامتنع علیہم وذکر ان بینہ وبین معاویۃ عہد او عقد لا یجوز لہ نقضہ، حتیٰ تمضی المدۃ۔
(الارشاد: صفحہ 182)
ایک مرتبہ کسی نے والیِ مدینہ کو بتایا کہ سیدنا حسینؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ کی مخالفت میں کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہے ہیں تو آپؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو یہ خبر پہنچا دی سیدنا امیرِ معاویہؓ نے والیِ مدینہ کے نام خط لکھا کہ آپ فکر نہ کریں۔ سیدنا حسینؓ نے اخلاص کے ساتھ میری بیعت کی ہے اور وہ کبھی اپنے عہد میں بے وفائی نہیں کریں گے۔
لا تعرض للحسین فی شیء، فقد بایعنا، ولیس بناقض بیعتنا ولا مخفر ذمتنا۔
(اخبار اطوال: صفحہ 224 از احمد بن داؤد دینوری شیعی متوفی 282ھ)
ترجمہ: تم کسی معاملے میں سیدنا حسینؓ سے چھیڑ چھاڑ مت کرو کیونکہ انہوں نے ہماری بیعت کر لی ہے اور وہ ہماری بیعت توڑنے والے نہیں اور نہ ہمارے ساتھ کیے گئے عہد کو ضائع کرنے والے ہیں۔
حضرت الاستاد علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ ایک مجلسِ درس میں فرماتے ہیں:
یہ سوال کہ سیدنا حسنؓ اور خود سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت کو قبول کیا یا نہیں؟ اگر ان دونوں بزرگوں نے قبول کیا اور سیدنا حسینؓ نے یزید کو نہ کیا تو پہلے خلفاء حق پر تھے اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے انہیں بخوشی قبول کیا اور یزید چونکہ وہ اپنے والد کی لائن پر نہیں تھا، اس لیے سیدنا حسینؓ نے اس کو قبول نہ کیا آپ غور کریں کہ اس وقت اہلِ سنت والجماعت جو یہ بات کہتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ برحق ہیں، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت برحق تھی، اپنے حق اور مؤقف میں وہ جو دلیل پیش کرتے ہیں کہ غلط حکمرانوں کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا جا سکتا جب سیدنا علی المرتضیٰؓ اور ان کے صاحبزادگان نے ہاتھ دیا تو پتہ چلا کہ ان بزرگوں کی خلافت برحق تھی۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ شیعہ علماء بجائے اس کے کہ ان واقعات اور حقائق سے سبق حاصل کریں اور اپنے عقیدہ پر نظرِ ثانی کریں، الٹا یہ کہہ دیتے ہیں کہ ان حضرات نے خلفائے راشدینؓ کی جو بیعت کی تھی وہ بطورِ تقیہ کی تھی اندر سے وہ اس بیعت پر کبھی مخلص نہ تھے۔ وہ ہمیشہ تقیہ کی راہ سے اپنا بچاؤ کر لیا کرتے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت الاستاد رحمۃاللہ اس پر فرماتے ہیں کہ شیعہ کا یہ مؤقف کہ تقیہ کے طور پر غلط حکمرانوں کو قبول کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس کو قبول کیا، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ نے اس کو قبول کیا۔ تو پھر کیا یہ سوال نہیں اٹھتا کہ سیدنا حسینؓ نے تقیہ کیوں نہ کیا تھا؟ اگر ایسے حکمرانوں کے سامنے تقیہ کر کے اطاعت کی جا سکتی ہے تو سیدنا حسینؓ نے تقیہ کی سیاہ چادر کیوں نہ پہنی؟ اور اگر کی جا سکتی تھی تو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے کیوں اطاعت کی تھی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب 12 سو سال سے یہ لوگ نہیں دے سکے ہیں ان سے سادہ زبان میں پوچھا جائے کہ اس مسئلے کا جواب دو اگر حکمران غلط ہوں تو ان کو قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو سیدنا حسینؓ نے کیوں قبول نہ کیا؟ اور اگر ناجائز ہے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ جیسے شیرِ خدا نے کیوں قبول کیا؟
(محرم کی 10 راتیں: صفحہ 90)
