سیدنا حسینؓ کا خلفاء ثلاثہؓ کی اقتداء کرنا
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ جب تک مدینہ منورہ میں رہے، خلفاءِ ثلاثہؓ کی اقتداء میں جمعہ، عیدین اور پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے تھے اور کبھی ان بزرگوں کے خلاف کوئی بات ان کی زبان پر نہیں سنی گئی اس طرح بعد میں بھی جو حضرات مسجدِ نبوی میں بطورِ ائمہ خدمت سر انجام دیتے تھے، آپؓ پورے اخلاص کے ساتھ ان کی اقتداء میں بھی نماز پڑھتے تھے آپؓ نے کبھی نہیں کہا کہ ان کی اقتداء جائز نہیں اور نہ کبھی کہا کہ میں یہ نمازیں بطورِ تقیہ پڑھتا رہا ہوں آپؓ کی اولاد نے ہمیشہ آپؓ کو ان کی اقتداء میں نمازیں ادا کرتے دیکھا تھا اور یہ بھی دیکھا کہ آپؓ نے کبھی گھر آ کر جماعت کے ساتھ پڑھی گئی نمازیں نہیں لوٹائیں تھیں۔
سیدنا باقرؒ اپنے اور اپنے والد سیدنا زین العابدینؒ کے بارے میں کھل کر کہتے ہیں:
عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ قَالَ: إنَّا لَنُصَلِّی خَلْفَهُمْ فِی غَيْرِ تَقِيَّةٍ وَ أَشْهَدُ عَلَى عَلِی بْنِ حُسَيْنٍ أنَّهُ كَانَ يُصَلِّی خَلْفَهُمْ فِی غَيْرِ تَقِيَّةٍ۔
(طبقات ابنِ سعد: جلد 5 صفحہ 110)
تقیہ کے بغیر ان کے پیچھے نمازیں ادا کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد یعنی سیدنا زین العابدینؒ بھی بغیر تقیہ کے ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔
سیدنا جعفر صادقؒ نے اپنے والد سیدنا باقرؒ سے یہ بات اس طرح بیان فرمائی ہے:
عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِی وَالْحُسَيْنُ يُصَلِّيَانِ خَلْفَ مَرْوَانَ، قَالَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَا كَانَ أَبُوكَ يُصَلِّی إِذَا رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: لَا وَاللّٰہ مَا كَانَ يَزِيدُونَ عَلَى صَلَاةِ الْأَئِمَّةِ۔
(المصنف لابنِ ابی شیبہ: جلد 2 صفحہ 154)
سیدنا جعفر صادقؒ اپنے والد سیدنا باقرؒ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دونوں مروان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے والد گھر جا کر ان نمازوں کو لوٹاتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم نہیں لوٹاتے تھے اب اگر کوئی ملا یا ذاکر اس بات پر ہی ضد اور اصرار کرے کہ جب تک خلفاءِ ثلاثہؓ کی اقتداء میں تھے انہوں نے بے شک ان کے پیچھے نماز ادا کی مگر یہ سب تقیہ کے طور پر ہی پڑھیں تھیں تو پھر ہمارے پاس اس ہٹ دھرمی اور ضد اور گھٹیا سوچ کا کوئی علاج نہیں ہے۔
