1: جس پانی سے وضو کرنا ہو وہ پاک اور پاک کرنے والا ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ جب اسی پانی سے طہارت حاصل کرنی ہے تو اس پانی کا پاک اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔
2:وضو سے پہلے نیت کرنی چاہیے۔ وضو میں نیت کرنا کم از کم سنت ہے اور نیت کرنے سے ہی وضو ثواب اور درجے والا ہوتا ہے۔
وضو کے لیے نیت یہ ہو گی کہ دل میں ارادہ کرے کہ میں اس وضو کے ذریعے طہارت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
اور اگر وہ شخص پہلے سے باوضو ہو اور اس کے باوجود تازہ وضو کرنا چاہتا ہو تو پھر یہ نیت کرے کہ میں اس وضو کے ذریعے وہ ثواب حاصل کرنا چاہتا ہوں جو وضو کرنے کی وجہ سے ملتا ہے۔
3:وضو کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنا بھی سنت ہے۔
اس لیے کہ حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
مَن تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اللّٰهَ فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ، وَمَن تَوَضَّأَ وَلَم يَذكُرِ اسمَ اللّٰهِ لَم يَطهُر إِلَّا مَوضِعَ الوُضُوءِ
(دارقطنی: جلد 1 صفحہ73، 74 سنن الکبریٰ للبیہقی: جلد1 صفحہ44)
ترجمہ: جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا تو بے شک اس کے سارے جسم کو پاک کر دیتا ہے اور جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا تو اس کے صرف وضو والے اعضا پاک ہوتے ہیں۔
اور اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ حِينَ يَقُومُ لِلوُضُوءِ يَكفَأُ الإِنَاءَ فَيُسَمِّی اللّٰهَ ثُمَّ يُسبِغُ الوُضُوءَ
(مجمع الزوائد: جلد1 صفحہ220)
ترجمہ: نبی کریمﷺ جب وضو کے لیے اٹھتے تھے تو برتن کو اوندھا کرتے، بسم اللہ پڑھتے، پھر مکمل وضو کرتے۔
4: مسواک: وضو کی ابتدا میں مسواک کرنا بھی سنت ہے۔
اس لیے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ يُفَضِّلُ الصَّلَاةَ الَّتِی يُستَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِی لَا يُستَاكُ لَهَا سَبعِينَ ضِعفًا
(مجمع الزوائد: جلد10 صفحہ 81 زجاجۃ المصابیح: جلد 1 صفحہ 95)
ترجمہ: نبی کریمﷺ اس نماز کو جس کے لیے مسواک کی گئی ہو، اس کو اس نماز پر ستر گنا فضیلت دیتے تھے جس کے لیے مسواک نہ کی گئی ہو۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے:
كُنَّا نَضَعُ مِسوَاكَ رَسُولِ اللّٰهِﷺ مَعَ طَهُورِهِ
(مجمع الزوائد: جلد2 صفحہ98)
ترجمہ: ہم طہارت کے پانی کے ساتھ رسول اللہﷺ کی مسواک رکھا کرتے تھے۔
اگر کسی آدمی کے پاس مسواک نہ ہو تو وہ انگلی کے ساتھ دانت صاف کرے۔
5: وضو کی ابتدا میں پہلے تین بار پہنچوں (گٹوں) تک ہاتھ دھونا بھی سنت ہے۔
اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:
فَغَسَلَ كَفَّيهِ حَتى أَنقَاهُمَا
(ابو داؤد: جلد 1 صفحہ 43 ترمذی: جلد 1 صفحہ8 نسائی: جلد 1 صفحہ15)
ترجمہ: پھر اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ ان کو خوب صاف کیا۔ اور ابو مطر نے حضرت علیؓ کے وضو کی جو روایت کی ہے اس میں ہے:
فَغَسَلَ كَفَّيهِ وَوَجهَهُ ثَلَاثًا
(مسند احمد: جلد1 صفحہ 158)
ترجمہ: تو حضرت علیؓ نے اپنی ہتھیلیاں اور اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو جو حضور اکرمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:
فافرغ عَلَى كَفَّيهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا
(بخاری: جلد1 صفحہ27)
ترجمہ: پھر تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں پر پانی بہا کر ان کو دھویا۔
6: وضو میں تین بار کلی کرنا بھی سنت ہے۔ کلی کہتے ہیں کہ منہ میں پانی ڈال کر اس کو حرکت دینا اور پھر گرا دینا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو حضور اقدسﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:
بِمَضمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الاِستِنشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ
(ترمذی: جلد 1 صفحہ8 ابو داؤد: جلد1 صفحہ 42 مسند احمد: جلد1 صفحہ135)
ترجمہ: ایک ہی پانی کے ساتھ ناک میں پانی ڈالنے کے ساتھ تین مرتبہ کلی کی۔
اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ فرماتے ہیں:
رَأَيتُ النَّبِیﷺ مَضمَضَ وَاستَنشَقَ مِن كَفٍّ وَاحِدٍ، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا
(ترمذی: جلد1 صفحہ6)
ترجمہ: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی ہتھیلی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، اور یہ کام آپﷺ نے تین دفعہ کیا۔
7: تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا بھی سنت ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کردہ روایت میں اس کا ذکر ہے۔
اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُم فَليَجعَل فِی أَنفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَستَنثِر
(مسلم: جلد1 صفحہ124)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی ڈالے، پھر اس کو جھاڑ دے۔
8: وضو میں جو اعضاء دھوئے جاتے ہیں ان کو ایک ایک بار دھونا فرض ہے۔ ایسے انداز میں دھوئے کہ ذرا سی جگہ بھی خشک نہ رہے اور دھوتے وقت اتنا پانی بہائے کہ چند قطرے نیچے بھی گر جائیں۔ دو دو بار دھونا اس سے افضل ہے اور تین تین بار دھونا سنت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک ایک دفعہ اعضاء کو دھو کر وضو کیا تو فرمایا:
هَذَا الوُضُوءُ الَّذِی لَا يَقبَلُ اللّٰهُ الصَّلَوةَ إِلَّا بِهِ
ترجمہ: یہ ایسا وضوہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول ہی نہیں کرتا، پھر دو دو بار اعضاء کو دھو کر وضو کیا تو فرمایا کہ یہ ایسا وضو ہے جس کی وجہ سے وضو کرنے والے کو دوہرا اجر دیا جاتا ہے۔
ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَقَالَ: هَذَا وُضُوئِی وَوُضُوءُ خَلِيلِ اللّٰهِ إِبرَاهِيمَ وَوُضُوءُ الأَنبِيَاءِ قَبلِی
(ابنِ ماجہ: صفحہ، 34 مسند احمد: جلد 2 صفحہ98 دارقطنی: جلد، 1 صفحہ، 81)
ترجمہ: پھر تین مرتبہ وضو کیا تو فرمایا کہ یہ میرا وضو ہے اور یہی حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا وضو ہے اور یہی مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کا وضو ہے۔
بلاوجہ تین مرتبہ سے زیادتی نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہ زیادتی کی صورت میں خواہ مخواہ پانی کا ضیاع بھی ہے اور آدمی کا سنت کے ثواب سے محروم ہونا بھی ہے جو کہ سراسر زیادتی اور اپنے آپ پر ظلم ہے۔
9: وضو کرتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ جن حضرات نے حضور اکرمﷺ کے وضو کو بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ آپﷺ نے دائیں جانب سے شروع کیا۔ اور نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو ترغیب بھی فرمائی ہے:
اذَا تَوَضَّأتُم فَابدَءُوا بِميَامنكُم
(ابو داؤد: جلد 2 صفحہ215 ابنِ ماجہ: صفحہ 33)
ترجمہ: جب تم وضو کرو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔
10: تین بار چہرہ دھونا: چہرہ دھونا فرض ہے، اس لیے کہ دھونے کا حکم قرآن کریم میں ہے: فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ کہ اپنے چہروں کو دھوو۔ چہرہ دھونے میں پیشانی کی ابتداء سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور دونوں کانوں کے درمیان کا حصہ شامل ہے، اس لیے کہ چہرہ اسی کو کہتے ہیں۔ بظاہر کان بھی چہرے میں شامل ہیں مگر چونکہ نبی کریمﷺ سے کانوں کے متعلق وضو میں چہرے سے الگ حکم ثابت ہے، اس لیے کان چہرے سے الگ ہیں۔
چہرے کا تین بار دھونا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے نبی کریمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا تھا اس میں ہے:
ثُمَّ غَسَلَ وَجهَهُ ثَلَاثًا
(بخاری: جلد1 صفحہ28)
اور جو حضرت علیؓ نے وضو کر کے دکھایا تھا اس میں بھی ہے:
ثُمَّ غَسَلَ وَجهَهُ ثَلَاثًا
(مسند احمد: جلد1 صفحہ 123)
ترجمہ: اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔
11: چہرہ دونوں ہاتھوں سے دھونا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جو نبی کریمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:
ثُمَّ أَخَذَ غُرفَةً مِن مَاءٍ فَجَعَلَ بِهَا هكَذَا أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأُخرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجهَهُ
(بخاری: جلد 1 صفحہ26)
ترجمہ: پھر ایک چلو پانی لیا اور اس کو دوسرے ہاتھ سے ملایا پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔
12: داڑھی کا خلال کرنا بھی سنت یا مستحب ہے۔ اس لیے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَقَد رَأَيتُ رَسُولَ اللهِﷺ يُخَلِّلُ لِحيَتَهُ
(ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 6)
ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔
اگر داڑھی گھنی ہو تو اس کا خلال کیا جائے گا، اور اگر داڑھی ہلکی ہو تو اس کے نیچے چہرہ کے چمڑے کو دھونا ضروری ہے۔
13: ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا بھی فرض ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں ہے: وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھوؤ۔ قرآن کریم میں اِلَى الۡمَرَافِقِ آیا ہے، کہ ہاتھوں کا دھونا کہنیوں تک ہے تو کہنیوں کو انتہاء قرار دیا گیا ہے اور انتہا اسی کی ہوتی ہے جس کی ابتداء ہو۔ تو ہاتھوں کو دھونے کی ابتداء انگلیوں سے ہو گی، اسی لیے اہلِ سنت والجماعت ہاتھ دھوتے وقت انگلیوں سے شروع کرتے ہیں۔
14:انگلیوں کا خلال کرنا: ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت انگلیوں کے درمیان خلال کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت لقیط بن صبرہؓ سے فرمایا:
إِذَا تَوَضَّأتَ فَخَلِّلِ الأَصَابِعَ
(ترمذی: جلد1 صفحہ7)
ترجمہ: جب تو وضو کرے تو انگلیوں کا خلال کیا کر۔ اسی طرح حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
إِذَا تَوَضَّأتَ فَخَلِّل أَصَابِعَ يَدَيكَ وَرِجلَيكَ
ترجمہ: کہ جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا کر۔ اور حضرت مستورد بن شدادؓ فرماتے ہیں:
رَأَيتُ النَّبِیﷺ إِذَا تَوَضَّأَ دَلَكَ أَصَابِعَ رِجلَيهِ بِخِنصِرِهِ
(ترمذی: جلد1 صفحہ9)
ترجمہ: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ جب آپﷺ وضو فرماتے تو اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے۔
15: ہاتھ دھوتے وقت انگوٹھی وغیرہ کو حرکت دینا بھی سنت ہے۔
اگر ہاتھ میں انگوٹھی یا کلائی میں گھڑی کا چین ہو یا عورتوں نے چوڑیاں وغیرہ پہنی ہوں تو اگر وہ اس قدر تنگ ہوں کہ پانی نیچے تک نہ جاتا ہو تو ان کو حرکت دے کر پانی نیچے تک پہنچانا ضروری ہے۔ اور اگر کشادہ ہوں اور حرکت دیئے بغیر بھی پانی نیچے تک پہنچ جاتا ہو تو پھر ان کو حرکت دینا سنت ہے۔
حضرت ابو رافعؓ فرماتے ہیں:
كَانَ النَّبِیﷺ إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّكَ خَاتَمَهُ
(دار قطنی: جلد1 صفحہ83 ابنِ ماجہ: صفحہ، 35)
ترجمہ: نبی کریمﷺ جب وضو کرتے تھے تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔
16: سر کا مسح کرنا فرض ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں ہے وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ تم اپنے سروں کا مسح کرو۔ سر کے کم از کم چوتھائی حصہ کا مسح کرنا فرض ہے اس لیے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ
(مسلم: جلد1 صفحہ134 ابو عوانہ: جلد1 صفحہ 259)
مقدارِ ناصیہ سر پر مسح کیا۔ اور مقدارِ ناصیہ سر کا چوتھائی حصہ بنتا ہے۔ اس سے کم آپﷺ سے سر کا مسح کرنا ثابت نہیں ہے۔ اور سارے سر کا مسح کرنا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن زید انصاریؓ حضورﷺ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مَسَحَ رَأسَهُ بِيَدَيهِ، فَأَقبَلَ بِهِمَا وَأَدبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتى رَجَعَ إِلَى المَكَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنهُ
(ترمذی: جلد1 صفحہ7)
ترجمہ: آپﷺ نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اپنے سر کا مسح کیا، پھر ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے۔ اپنے سر کے اگلے حصے سے مسح شروع کیا، پھر ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو واپس اسی جگہ تک لوٹایا جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔
17:گردن کا مسح: سر کے مسح کے ساتھ گردن کے کچھ حصے کا مسح ہو جاتا ہے، اس لیے آپﷺ گدی تک ہاتھ لے جاتے تھے اور گدی گردن ہی کا حصہ ہے۔
اسی لیے مسلک اہلِ حدیث کے عالم مولوی محمد صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں: اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ سر کا مسح کرتے وقت حضورﷺ اپنے ہاتھوں کو گدی تک لے جاتے تھے اور گدی سر کا پچھلا حصہ ہوتا ہے جس میں کچھ گردن بھی آ جاتی ہے۔ (صلوۃ الرسول: صفحہ38)
18: کانوں کا مسح کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے:
أَنَّ النَّبِیﷺ مَسَحَ بِرَأسِهِ وَأُذُنَيهِ بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَينِ وَظَاهِرَهُمَا بِإِبهَامَيهِ
(نسائی: جلد1 صفحہ29)
ترجمہ: بے شک نبی کریمﷺ نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ ان کے باطنی حصہ کا شہادت کی انگلیوں کے ساتھ اور ظاہری حصہ کا اپنے انگوٹھوں کے ساتھ مسح کیا۔
اور حضرت عثمانؓ نے حضورﷺ جیسا جو وضو کر کے دکھایا۔ اس میں انہوں نے فرمایا:
الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ
(مسند احمد: جلد1 صفحہ41)
ترجمہ: دونوں کان سر کا حصہ ہیں، یعنی ان کا سر کی طرح مسح کیا جائے۔
19:دونوں پاؤں کا دھونا فرض ہے اور یہ پاؤں کی انگلیوں سے لے کر کعبین یعنی ٹخنوں سمیت ہے۔
اس لیے کہ حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ نے حضورﷺ جیسا جو وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:
ثم غَسَلَ کل رجل ثَلَاثًا
(بخاری: جلد1 صفحہ28)
ترجمہ: پھر ہر پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا۔
اور بعض روایات میں ہے
وغسل رجلیه ثلاثا
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ158)
ترجمہ: اور اپنے پاؤں کو تین تین دفعہ دھویا۔
کسی روایت میں ہے:
وَغَسَلَ قَدَمَيهِ إِلَى الكَعبَينِ
(مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 127)
اور کسی روایت میں ہے:
ثُمَّ غَسَلَ رِجلَيهِ إِلَى الكَعبَينِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
(مسند احمد: جلد1 صفحہ28)
ترجمہ: پھر تین مرتبہ ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے۔
20: موزوں پر مسح کرنا سنت ہے۔ اگر پاؤں پر موزے پہنے ہوئے ہوں اور موزے میں پاؤں طہارت کی حالت میں ڈالے ہوں تو ان موزوں پر مسح کرنا سنت سے ثابت ہے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور موزوں پر مسح کی روایات حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
جَعَلَ رَسُولُ اللهِﷺ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلمُسَافِرِ وَيَومًا وَلَيلَةً لِلمُقِيمِ
(مسلم: جلد 1 صفحہ135)
ترجمہ: نبی کریمﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن رات تک اس کی مدت مقرر فرمائی ہے۔
21: وضو میں جو فرائض ہیں یعنی چہرہ دھونا، ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا، سر کا مسح کرنا اور پاؤں دھونا، ان میں ترتیب کا لحاظ رکھنا سنت ہے۔ اس لیے کہ آنحضرتﷺ سے وضو کے بارے میں جو روایات منقول ہیں ان میں ترتیب سے وضو کرنا ثابت ہے۔
22: وضو میں موالات مستحب ہے، یعنی اعضاء کو یکے بعد دیگرے دھونا۔ درمیان میں اتنا وقفہ نہ کیا جائے کہ پہلا عضو خشک ہو جائے۔
23: جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے ان پر صرف پانی بہانے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ ان کو ہاتھ سے ملنا بھی سنت ہے۔ اسی کو دلک کہتے ہیں، اس لیے کہ نبی کریمﷺ کے وضو میں دلک یعنی (اعضاء کو ملنا) بھی ثابت ہے۔
24:وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے، اس لیے کہ آپﷺ نے وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
25: وضو سے فارغ ہو کر رومال یا تولیے سے اعضا کو خشک کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
كَانَت لِلنَّبِیﷺ خِرقَةٌ يَنشَفُ بِهَا بَعدَ الوُضُوءِ
(مستدرک: جلد1 صفحہ154 ترمذی: جلد 1 صفحہ 9)
ترجمہ: نبی کریمﷺ کا ایک کپڑا تھا، اس کے ساتھ وضو کے بعد اعضاء پونچھتے تھے۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت معاذ بن جبلؓ سے بھی ہے۔
26: وضو میں قبلہ رخ بیٹھنا مستحب ہے اور اونچی جگہ پر بیٹھنا بھی مستحب ہے تاکہ چھینٹے نہ پڑیں۔ اور بلاوجہ وضو کے دوران کسی سے مدد لینا بھی مناسب نہیں ہے۔
27: وضو کے بعد دعائیں پڑھنا بھی سنت سے ثابت ہے۔ شہادتین پڑھے: أَشهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ
(مسلم: جلد 1 صفحہ 122)
اور اس کے ساتھ: اللّٰهُمَّ اجعَلنِی مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجعَلنِی مِنَ المُتَطَهِّرِينَ پڑھے۔
(ترمذی: جلد1 صفحہ9)
ان کے علاوہ اور بھی بعض دعائیں ثابت ہیں۔
وضو کے بعد دعا پڑھتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانا درست ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مَن تَوَضَّأَ فَأَحسَنَ الوُضُوءَ ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَه إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: أَشهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِحَت لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبوَابِ الجَنَّةِ يَدخُلُ مِن أَيِّهَا شَاءَ
(مسند ابی یعلیٰ: حدیث نمبر 244)
ترجمہ: جس نے اچھے انداز سے وضو کیا، پھر اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ کلمات کہے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، جس سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ وہ کلمات یہ ہیں أَشهَدُ أَن لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُهُ وَرَسُولُهُ
وضو کے بعد دعا کرتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی روایت کنز العمال میں حضرت ثوبان اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے بھی ہے۔
اس لیے وضو کے بعد دعا پڑھتے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھانا تو درست ہے، مگر انگلی کا اٹھانا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
28: وضو کے بعد اگر ایسا وقت ہو جس میں نوافل پڑھے جا سکتے ہیں تو دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھنا بھی سنت اور فضیلت کا باعث ہے۔