وضو کا مسنون طریقہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

وضو کا مسنون طریقہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

صفحہ 2 از 3

9: وضو کرتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ جن حضرات نے حضور اکرمﷺ کے وضو کو بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ آپﷺ نے دائیں جانب سے شروع کیا۔ اور نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو ترغیب بھی فرمائی ہے:  

اذَا تَوَضَّأتُم فَابدَءُوا بِميَامنكُم  

(ابو داؤد: جلد 2 صفحہ215 ابنِ ماجہ: صفحہ 33)  

ترجمہ: جب تم وضو کرو تو دائیں جانب سے شروع کرو۔

10: تین بار چہرہ دھونا: چہرہ دھونا فرض ہے، اس لیے کہ دھونے کا حکم قرآن کریم میں ہے: فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ کہ اپنے چہروں کو دھوو۔ چہرہ دھونے میں پیشانی کی ابتداء سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور دونوں کانوں کے درمیان کا حصہ شامل ہے، اس لیے کہ چہرہ اسی کو کہتے ہیں۔ بظاہر کان بھی چہرے میں شامل ہیں مگر چونکہ نبی کریمﷺ سے کانوں کے متعلق وضو میں چہرے سے الگ حکم ثابت ہے، اس لیے کان چہرے سے الگ ہیں۔

چہرے کا تین بار دھونا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے نبی کریمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا تھا اس میں ہے:  

ثُمَّ غَسَلَ وَجهَهُ ثَلَاثًا  

(بخاری: جلد1 صفحہ28)  

اور جو حضرت علیؓ نے وضو کر کے دکھایا تھا اس میں بھی ہے:  

ثُمَّ غَسَلَ وَجهَهُ ثَلَاثًا  

(مسند احمد: جلد1 صفحہ 123)  

ترجمہ: اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔

11: چہرہ دونوں ہاتھوں سے دھونا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے جو نبی کریمﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:  

ثُمَّ أَخَذَ غُرفَةً مِن مَاءٍ فَجَعَلَ بِهَا هكَذَا أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأُخرَى فَغَسَلَ بِهَا وَجهَهُ

(بخاری: جلد 1 صفحہ26)  

ترجمہ: پھر ایک چلو پانی لیا اور اس کو دوسرے ہاتھ سے ملایا پھر اس سے اپنا چہرہ دھویا۔

12: داڑھی کا خلال کرنا بھی سنت یا مستحب ہے۔ اس لیے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  

لَقَد رَأَيتُ رَسُولَ اللهِﷺ يُخَلِّلُ لِحيَتَهُ 

(ترمذی: جلد، 1 صفحہ، 6)

ترجمہ: میں نے رسول اللہﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔  

اگر داڑھی گھنی ہو تو اس کا خلال کیا جائے گا، اور اگر داڑھی ہلکی ہو تو اس کے نیچے چہرہ کے چمڑے کو دھونا ضروری ہے۔

13: ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا بھی فرض ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں ہے: وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ اور اپنے ہاتھ کہنیوں سمیت دھوؤ۔ قرآن کریم میں اِلَى الۡمَرَافِقِ آیا ہے، کہ ہاتھوں کا دھونا کہنیوں تک ہے تو کہنیوں کو انتہاء قرار دیا گیا ہے اور انتہا اسی کی ہوتی ہے جس کی ابتداء ہو۔ تو ہاتھوں کو دھونے کی ابتداء انگلیوں سے ہو گی، اسی لیے اہلِ سنت والجماعت ہاتھ دھوتے وقت انگلیوں سے شروع کرتے ہیں۔

14:انگلیوں کا خلال کرنا: ہاتھ اور پاؤں دھوتے وقت انگلیوں کے درمیان خلال کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت لقیط بن صبرہؓ سے فرمایا:  

إِذَا تَوَضَّأتَ فَخَلِّلِ الأَصَابِعَ  

(ترمذی: جلد1 صفحہ7) 

ترجمہ: جب تو وضو کرے تو انگلیوں کا خلال کیا کر۔ اسی طرح حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:  

إِذَا تَوَضَّأتَ فَخَلِّل أَصَابِعَ يَدَيكَ وَرِجلَيكَ 

ترجمہ: کہ جب تو وضو کرے تو اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا کر۔ اور حضرت مستورد بن شدادؓ فرماتے ہیں:  

رَأَيتُ النَّبِیﷺ إِذَا تَوَضَّأَ دَلَكَ أَصَابِعَ رِجلَيهِ بِخِنصِرِهِ  

(ترمذی: جلد1 صفحہ9)  

ترجمہ: میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ جب آپﷺ‏ وضو فرماتے تو اپنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرتے۔

15: ہاتھ دھوتے وقت انگوٹھی وغیرہ کو حرکت دینا بھی سنت ہے۔  

اگر ہاتھ میں انگوٹھی یا کلائی میں گھڑی کا چین ہو یا عورتوں نے چوڑیاں وغیرہ پہنی ہوں تو اگر وہ اس قدر تنگ ہوں کہ پانی نیچے تک نہ جاتا ہو تو ان کو حرکت دے کر پانی نیچے تک پہنچانا ضروری ہے۔ اور اگر کشادہ ہوں اور حرکت دیئے بغیر بھی پانی نیچے تک پہنچ جاتا ہو تو پھر ان کو حرکت دینا سنت ہے۔

حضرت ابو رافعؓ فرماتے ہیں:  

كَانَ النَّبِیﷺ إِذَا تَوَضَّأَ حَرَّكَ خَاتَمَهُ  

(دار قطنی: جلد1 صفحہ83 ابنِ ماجہ: صفحہ، 35)

ترجمہ: نبی کریمﷺ جب وضو کرتے تھے تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتے تھے۔

16: سر کا مسح کرنا فرض ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں ہے وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ تم اپنے سروں کا مسح کرو۔ سر کے کم از کم چوتھائی حصہ کا مسح کرنا فرض ہے اس لیے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے وضو کرتے ہوئے مَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ

(مسلم: جلد1 صفحہ134 ابو عوانہ: جلد1 صفحہ 259)

مقدارِ ناصیہ سر پر مسح کیا۔ اور مقدارِ ناصیہ سر کا چوتھائی حصہ بنتا ہے۔ اس سے کم آپﷺ سے سر کا مسح کرنا ثابت نہیں ہے۔ اور سارے سر کا مسح کرنا سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن زید انصاریؓ حضورﷺ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:  

مَسَحَ رَأسَهُ بِيَدَيهِ، فَأَقبَلَ بِهِمَا وَأَدبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتى رَجَعَ إِلَى المَكَانِ الَّذِی بَدَأَ مِنهُ  

(ترمذی: جلد1 صفحہ7)  

ترجمہ: آپﷺ نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اپنے سر کا مسح کیا، پھر ہاتھوں کو آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے۔ اپنے سر کے اگلے حصے سے مسح شروع کیا، پھر ہاتھوں کو گدی تک لے گئے، پھر ان کو واپس اسی جگہ تک لوٹایا جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔

17:گردن کا مسح: سر کے مسح کے ساتھ گردن کے کچھ حصے کا مسح ہو جاتا ہے، اس لیے آپﷺ گدی تک ہاتھ لے جاتے تھے اور گدی گردن ہی کا حصہ ہے۔  

اسی لیے مسلک اہلِ حدیث کے عالم مولوی محمد صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں: اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ سر کا مسح کرتے وقت حضورﷺ اپنے ہاتھوں کو گدی تک لے جاتے تھے اور گدی سر کا پچھلا حصہ ہوتا ہے جس میں کچھ گردن بھی آ جاتی ہے۔  (صلوۃ الرسول: صفحہ38)

18: کانوں کا مسح کرنا بھی سنت ہے۔ اس لیے کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے:  

أَنَّ النَّبِیﷺ مَسَحَ بِرَأسِهِ وَأُذُنَيهِ بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَينِ وَظَاهِرَهُمَا بِإِبهَامَيهِ  

(نسائی: جلد1 صفحہ29)  

ترجمہ: بے شک نبی کریمﷺ نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ ان کے باطنی حصہ کا شہادت کی انگلیوں کے ساتھ اور ظاہری حصہ کا اپنے انگوٹھوں کے ساتھ مسح کیا۔

صفحہ 2 از 3