سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نانا جانﷺ کی نگاہ…

سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نانا جانﷺ کی نگاہ محبت میں

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

ایک مرتبہ حضورﷺ کہیں جا رہے تھے راستے میں دیکھا کہ سیدنا حسینؓ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں آپﷺ نے انہیں پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے کیا تو سیدنا حسینؓ دوڑ پڑے آپﷺ یہ دیکھ کر مسکرا اٹھے اور ان کے پیچھے دوڑنے لگے جب وہ پکڑے گئے تو آپﷺ نے انہیں گلے لگا لیا اور ان کا منہ چوم لیا۔

(مستدرک حاکم: جلد 1، صفحہ 195) 

ایک مرتبہ آپﷺ سیدہ فاطمہؓ کے ہاں آئے تو دونوں بچے موجود نہ تھے آپﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے پوچھا کہ بچے کہاں ہیں عرض کیا کہ وہ سیدنا علیؓ کے ساتھ باہر نکلے ہیں چنانچہ حضورﷺ ان دونوں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے اور پھر ان دونوں کو اس طرح کھیلتے ہوئے پایا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کا ایک ٹکڑا تھا۔ (ایضاً: صفحہ 181) 

آپﷺ سیدنا حسینؓ کے بارے میں فرماتے تھے کہ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں اللہ اس شخص سے محبت کرے جس نے حسین سے محبت رکھی اور ان سے پیار کیا (حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا ِمنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْاَسْبَاطِ۔ )

(جامع ترمذی: جلد 2 صفحہ 219، سنن ابن ماجہ: صفحہ 14) 

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت رکھے اللہ اس سے محبت کرے حسین تو اسباط میں سے ایک سبط ہے۔ 

یعنی اولاد میں سے ایک، نواسوں میں سے ایک اور میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور وہ میرا محبوب نواسہ ہے۔ سبط ایک ایسے درخت کو کہا جاتا ہے جس کی جڑ ایک ہو مگر اس کی شاخیں کثیر ہوں اس میں سیدنا حسینؓ کی نسل کے بڑی اور باقی ہونے کا بھی اشارہ ہے۔

نوٹ: یاد رہے کہ عرب کی لغت میں سبط کا لفظ پوتا اور نواسہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ نواسوں کے لیے زیادہ مشہور ہے۔

(تاج العروس: جلد 5 صفحہ 148) حافظ ابن کثیرؒ نے اس کے لیے امام یحییٰ یعمرؒ کے حوالہ سے سورۃ الانعام کی آیت 85 کو دلیل میں لائے ہیں۔ ایک روایت میں یہ بات آپﷺ کے دونوں نواسوں کے بارے میں ملتی ہے:

وفی روايۃ: الحسن والحسين سبطا رسول اللہﷺ

(المفاتیح فی شرح المصابیح: جلد 6 صفحہ 328) 

حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّهُ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ. 

(المعجم الكبير: جلد 3 صفحہ 32 للطبرانی) 

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ 1362ھ فرماتے ہیں سیدنا حسینؓ کا کیسا تقدس ہے کہ حضورﷺ کے نور سے ان کو خاص تلبس ہے۔ 

(الافاضات: جلد 3 صفحہ 32) 

سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ کے سامنے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ آپس میں کشتی لڑ رہے تھے حضورﷺ نے یہ منظر دیکھا تو خوش ہوئے اور ساتھ ہی فرمایا شاباش حسینؓ (ھی حسین) سیدہ فاطمہؓ نے سنا تو پوچھا کہ آپﷺ نے ایسے کیوں کہا آپﷺ نے فرمایا یہ بات حضرت جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے تھے: فقالت فاطمۃ: لم تقول هی حسين؟ فقال: إنَّ جبرئيل يقول هی حسينؓ

(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 332) 

سیدناحسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما روزانہ اپنے نانا جانﷺ کی خدمت میں آجاتے تھے اور شام تک آپﷺ کے پاس رہتے جب اندھیرا چھانے لگتا تو آپﷺ حضرت ابوہریرہؓ سے فرماتے ہیں کہ جاؤ ان کو ان کی والدہ کے پاس پہنچا دو۔ 

سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اندھیرا چھا گیا تھا تو میں نے حضورﷺ سے کہا کیا میں ان دونوں کو گھر پہنچا آؤں اتنے میں بجلی چمکی ان دونوں کو لے کر نکلا میں نے دیکھا کہ بجلی کی چمک اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ بچے اپنی والدہ کے پاس اندر داخل ہو گئے۔

فَمَکَثَ ضَوْؤُھَا حَتَّى دَخَلاَ۔ 

(مسند احمد: جلد 16 صفحہ 386، دلائل النبوۃ: جلد 1 صفحہ 76،للبیہقی مرقات: جلد 9 صفحہ 3970، طبع بیروت) 

حضور اکرمﷺ پر جب سورۃالاحزاب کی یہ آیت اتری جس میں اللہ نے فرمایا : اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا

اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے نجاست کو اے نبیﷺ کے گھر والو اور ستھرا کر دے تم کو ایک ستھرائی سے۔ 

جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضورﷺ ام المومنین سیدہ سلمہؓ کے مکان پر تھے تو حضورﷺ نے سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو بلایا اور ایک چادر منگوا کر تمام حضرات نے اسے اپنے اوپر لے لیا پھر حضورﷺ نے اس طرح دعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست کو دور فرما دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔ 

(جامع ترمذی: جلد 5  صفحہ 204 ) 

حضورﷺ کی یہ دعا سیدنا حسینؓ کے لیے بھی تھی اس سے سیدنا حسینؓ کی شان طہارت کا پتہ چلتا ہے وہ کس اونچے درجے کی ہوگی۔ 

نوٹ: اس آیت کی تفہیم کے لیے حضرت استاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ  کی کتاب تجلیات آفتاب:  جلد دوم صفحہ 66 کا مطالعہ کیجیے۔


صفحہ 2 از 2