سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما نانا جانﷺ کی نگاہ محبت میں
مولانا اقبال رنگونیحضورﷺ آپؓ کی پیدائش سے پہلے حضرت سیدہ فاطمہؓ کہ ہاں آتے تو صرف سیدنا حسنؓ سے کھیلتے انہیں پیار کرتے اور دعا دیتے جب سیدنا حسینؓ پیدا ہوئے تو آپﷺ دونوں بچوں کو دیکھنے کے لیے آیا کرتے ان کی خیر خیریت دریافت کرتے، ان کو شفقت اور روحانیت سے بھرپور پیار عطا فرماتے، ان سے کھیلتے ان کو گلے لگاتے، سینہ مبارک سے چمٹاتے اور ان کو بوسے دیتے تھے۔
حضرت ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما حضورﷺ کے سینہ مبارک پر چڑھے کھیل رہے تھے جب میں نے پوچھا کہ یہ دونوں آپﷺ کو اتنا عزیز ہیں تو فرمایا کیوں نہیں یہ دونوں دنیا میں میری بہار (پھول) ہیں۔
(صحیح بخاری: جلد 1صفحہ 530)
حضورﷺ ان بچوں کے رونے کی آواز پر تڑپ جاتے تھے اور جب تک بچے چپ نہ ہوتے آپﷺ کو بھی قرار نہ آتا تھا ایک مرتبہ آپﷺ سیدہ فاطمہؓ کے ہاں آئے تو سیدنا حسینؓ کے رونے کی آواز آئی تو آپﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ ان کا رونا مجھے بے چین کر دیتا ہے
(طبرانی: جلد 3 صفحہ 283)
پھر آپﷺ نے انہیں اٹھا لیا اور پیار کیا جب تک وہ چپ نہ ہوئے آپ گھر سے باہر نہیں نکلے۔
(طبرانی: جلد 3 صفحہ 116)
حضرت ابوامامہؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے فرما رکھا تھا کہ انہیں (یعنی سیدنا حسینؓ کو) رلانا نہیں۔ ایک دن حضورﷺ سیدہ ام المؤمنین ام سلمہؓ کے ہاں تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لے آئے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اب کسی کو اندر نہ آنے دینا۔ اس دوران سیدنا حسینؓ آگئے اور دروازہ بند دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ سیدہ ام سلمہؓ کو جب ان کے رونے کی آواز آئی تو انہوں نے فوراً دروازہ کھول دیا، سیدنا حسینؓ اندر گئے اور سیدھے اپنے ناناﷺ کی گود میں جا بیٹھے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 289)
حضرت ام الفضلؓ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضورﷺ کے پاس آئی سیدنا حسنؓ اس وقت بچے تھے اور آپﷺ کی گود میں تھے اتنے میں سیدنا حسنؓ نے پیشاب کر دیا تو میں نے اسے ہلکا سا ہاتھ مارا (جس طرح ماں اپنے بچے کو پیار میں ہلکا ہاتھ مارتی ہے) حضورﷺ یہ دیکھ کر تڑپ اٹھے اور کہا کہ چلو رہنے دو، اللہ تجھ پر رحم کرے، اسے نہ مارو تکلیف ہوگی
(مستدرک: جلد 1 صفحہ 166)
ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ سیدہ فاطمہؓ کے ہاں آئے تو دیکھا کہ سیدنا حسینؓ رو رہے ہیں آپﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حسین کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے:
أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُكَاءَهُ يُؤْذِينِي۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 282)
سیدنا علی مرتضیٰؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ ایک دن ہمارے گھر میں آرام فرما تھے اور دونوں بچے بھی سو رہے تھے اتنے میں سیدنا حسینؓ کو پیاس لگی وہ بیدار ہو کر پانی مانگنے لگے حضور اکرمﷺ فوراً اٹھ گئے اور مشکیزہ سے پانی لے کر سیدنا حسینؓ کو پلانے ہی لگے تھے کہ سیدنا حسنؓ بھی اٹھ گئے اور پانی پینے کے لیے آگے آئے اور کہا کہ مجھے پہلے پلائیں آپﷺ نے کہا بیٹا پہلے بھائی نے پانی مانگا ہے اسے پینے دو۔سیدہ فاطمہؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا کہ کیا آپﷺ کو حسین زیادہ پیارے ہیں آپﷺ نے فرمایا کہ نہیں، مجھے تو دونوں ہی پیارے ہیں البتہ پانی پہلے حسین نے مانگا تھا اس لیے اسے دیا ہے۔ (تاریخ ابن عساکر: جلد 4 صفحہ 317)
سیدنا ابوہریرہؓ کی وفات کا وقت قریب تھا اتنے میں آپؓ کے ہاں مروان آیا اور آپؓ سے کہا کہ میں آپؓ کی ایک بات سے خفا ہوں اور وہ یہ کہ تم سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی محبت و عقیدت میں حد سے بڑھ جاتے ہو (یعنی بہت زیادہ محبت کرتے ہو) راوی کا بیان ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ اس کی یہ بات سن کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں ان سے اتنی محبت کیوں رکھتا ہوں، میں نے خود اپنی آنکھوں دیکھا واقعہ بتلاتا ہوں کہ:
ایک مرتبہ ہم لوگ حضور اکرمﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے اور سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ بھی ہمارے ہمراہ تھے دورانِ سفر حضور اکرمﷺ کو بچوں کے رونے کی آواز آئی تو آپﷺ نے اپنی سواری تیز کر لی اور سیدہ فاطمہؓ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میرے بیٹے کیوں رو رہے ہیں؟ سیدہ فاطمہؓ نے عرض کیا کہ انہیں پیاس لگی ہے آپﷺ نے مشکیزہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو اس میں پانی نہ تھا آپﷺ نے قافلہ میں موجود لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بھی اپنے مشکیزوں کو دیکھا مگر ان میں بھی پانی نہ تھا سب ختم ہو چکا تھا۔ حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے کہا کہ ان دو بچوں میں سے ایک بچہ مجھے دو۔ سیدہ فاطمہؓ نے تعمیل حکم کیا اور ایک بچہ آپﷺ کو پکڑا دیا حضورﷺ نے اس بچے کو اپنے سینے مبارک سے چمٹا لیا مگر بچہ کا رونا کم نہ ہوا حضورﷺ نے اپنی زبان مبارک اس کے منہ میں رکھ دی جسے بچے نے چوسنا شروع کر دیا یہاں تک کہ بچہ خاموش ہوگیا اور اس کی پیاس جاتی رہی پھر آپﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے دوسرا بچہ طلب کیا اور اس کے ساتھ بھی ایسا عمل کیا یہاں تک کہ اس کی بھی پیاس جاتی رہی اور اس کا رونا ختم ہو گیا۔
(درالسحابہ فى مناقب القرابہ والصحابہ: صفحہ 306 للشوکانی طبع لاہور)
ایک مرتبہ آپﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اتنے میں دونوں بچے گرتے پڑتے مسجد میں آگئے آپﷺ نے انہیں دیکھا تو ممبر سے نیچے اتر آئے اور دونوں کو اٹھا کر منبر پر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔
(جامع ترمذی: جلد 2 صفحہ 218)
ایک مرتبہ آپﷺ نماز ادا کر رہے تھے اور دونوں بچے قریب سے کھیل رہے تھے جب آپﷺ سجدے میں گئے تو سیدنا حسینؓ اپنی جگہ سے اٹھ کر حضورﷺ کی پیٹھ پر بیٹھ گئے حضورﷺ نے اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک وہ آپﷺ کی پیٹھ سے نیچے نہ اتر آئے۔
(سنن نسائی: جلد 1صفحہ 172)
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضورﷺ کے ساتھ نکلے حال یہ تھا کہ حضورﷺ کے ایک کندھے پر سیدنا حسن اور دوسرے کندھے پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سوار تھے یہ منظر دیکھ کر ایک شخص کہنے لگا کہ آپﷺ ان دونوں سے کس قدر محبت رکھتے ہیں آپﷺ نے فرمایا جس نے ان دونوں سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 182)
ایک مرتبہ حضورﷺ کہیں جا رہے تھے راستے میں دیکھا کہ سیدنا حسینؓ بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں آپﷺ نے انہیں پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے کیا تو سیدنا حسینؓ دوڑ پڑے آپﷺ یہ دیکھ کر مسکرا اٹھے اور ان کے پیچھے دوڑنے لگے جب وہ پکڑے گئے تو آپﷺ نے انہیں گلے لگا لیا اور ان کا منہ چوم لیا۔
(مستدرک حاکم: جلد 1، صفحہ 195)
ایک مرتبہ آپﷺ سیدہ فاطمہؓ کے ہاں آئے تو دونوں بچے موجود نہ تھے آپﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے پوچھا کہ بچے کہاں ہیں عرض کیا کہ وہ سیدنا علیؓ کے ساتھ باہر نکلے ہیں چنانچہ حضورﷺ ان دونوں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے اور پھر ان دونوں کو اس طرح کھیلتے ہوئے پایا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کا ایک ٹکڑا تھا۔ (ایضاً: صفحہ 181)
آپﷺ سیدنا حسینؓ کے بارے میں فرماتے تھے کہ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں اللہ اس شخص سے محبت کرے جس نے حسین سے محبت رکھی اور ان سے پیار کیا (حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا ِمنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْاَسْبَاطِ۔ )
(جامع ترمذی: جلد 2 صفحہ 219، سنن ابن ماجہ: صفحہ 14)
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت رکھے اللہ اس سے محبت کرے حسین تو اسباط میں سے ایک سبط ہے۔
یعنی اولاد میں سے ایک، نواسوں میں سے ایک اور میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور وہ میرا محبوب نواسہ ہے۔ سبط ایک ایسے درخت کو کہا جاتا ہے جس کی جڑ ایک ہو مگر اس کی شاخیں کثیر ہوں اس میں سیدنا حسینؓ کی نسل کے بڑی اور باقی ہونے کا بھی اشارہ ہے۔
نوٹ: یاد رہے کہ عرب کی لغت میں سبط کا لفظ پوتا اور نواسہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ نواسوں کے لیے زیادہ مشہور ہے۔
(تاج العروس: جلد 5 صفحہ 148) حافظ ابن کثیرؒ نے اس کے لیے امام یحییٰ یعمرؒ کے حوالہ سے سورۃ الانعام کی آیت 85 کو دلیل میں لائے ہیں۔ ایک روایت میں یہ بات آپﷺ کے دونوں نواسوں کے بارے میں ملتی ہے:
وفی روايۃ: الحسن والحسين سبطا رسول اللہﷺ
(المفاتیح فی شرح المصابیح: جلد 6 صفحہ 328)
حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللهُ مَنْ أَحَبَّهُ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ.
(المعجم الكبير: جلد 3 صفحہ 32 للطبرانی)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ 1362ھ فرماتے ہیں سیدنا حسینؓ کا کیسا تقدس ہے کہ حضورﷺ کے نور سے ان کو خاص تلبس ہے۔
(الافاضات: جلد 3 صفحہ 32)
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ کے سامنے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ آپس میں کشتی لڑ رہے تھے حضورﷺ نے یہ منظر دیکھا تو خوش ہوئے اور ساتھ ہی فرمایا شاباش حسینؓ (ھی حسین) سیدہ فاطمہؓ نے سنا تو پوچھا کہ آپﷺ نے ایسے کیوں کہا آپﷺ نے فرمایا یہ بات حضرت جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے تھے: فقالت فاطمۃ: لم تقول هی حسين؟ فقال: إنَّ جبرئيل يقول هی حسينؓ
(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 332)
سیدناحسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما روزانہ اپنے نانا جانﷺ کی خدمت میں آجاتے تھے اور شام تک آپﷺ کے پاس رہتے جب اندھیرا چھانے لگتا تو آپﷺ حضرت ابوہریرہؓ سے فرماتے ہیں کہ جاؤ ان کو ان کی والدہ کے پاس پہنچا دو۔
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اندھیرا چھا گیا تھا تو میں نے حضورﷺ سے کہا کیا میں ان دونوں کو گھر پہنچا آؤں اتنے میں بجلی چمکی ان دونوں کو لے کر نکلا میں نے دیکھا کہ بجلی کی چمک اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ بچے اپنی والدہ کے پاس اندر داخل ہو گئے۔
فَمَکَثَ ضَوْؤُھَا حَتَّى دَخَلاَ۔
(مسند احمد: جلد 16 صفحہ 386، دلائل النبوۃ: جلد 1 صفحہ 76،للبیہقی مرقات: جلد 9 صفحہ 3970، طبع بیروت)
حضور اکرمﷺ پر جب سورۃالاحزاب کی یہ آیت اتری جس میں اللہ نے فرمایا : اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا
اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے نجاست کو اے نبیﷺ کے گھر والو اور ستھرا کر دے تم کو ایک ستھرائی سے۔
جس وقت یہ آیت اتری اس وقت حضورﷺ ام المومنین سیدہ سلمہؓ کے مکان پر تھے تو حضورﷺ نے سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو بلایا اور ایک چادر منگوا کر تمام حضرات نے اسے اپنے اوپر لے لیا پھر حضورﷺ نے اس طرح دعا فرمائی کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست کو دور فرما دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔
(جامع ترمذی: جلد 5 صفحہ 204 )
حضورﷺ کی یہ دعا سیدنا حسینؓ کے لیے بھی تھی اس سے سیدنا حسینؓ کی شان طہارت کا پتہ چلتا ہے وہ کس اونچے درجے کی ہوگی۔
نوٹ: اس آیت کی تفہیم کے لیے حضرت استاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ کی کتاب تجلیات آفتاب: جلد دوم صفحہ 66 کا مطالعہ کیجیے۔
