ہماری کتابوں سے تو ممتوعہ کو زوجہ ثابت کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
کیونکہ ہم تو قرآنی زوجہ کو ہی زوجہ کہتے ہیں جس میں لوازماتِ زوجیت حسبِ تصریحِ قرآنِ مجید بدرجہ اتم موجود ہوں البتہ اسد الٰہی زوجہ بڑی آسانی سے ثابت کی جا سکتی ہے کیونکہ جہاں بقول شیعہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو غروب ہوتے ہوئے آفتاب کی طنابیں کھینچ کر اسے واپس لے آنے کی طاقت تھی وہاں انہیں یہ پیغمبری حق بھی حاصل تھا کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیں اگر یہ زرارہ و ہشام اینڈ کو کے کارخانہ افتراء کی ایجاد نہ ہو تو اپنے اسی حق کو استعمال کر کے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مطلق زنا کو نکاح قرار دے دیا تھا۔
روایت ہے: قَالَ اَبِی عَبْدِ اللّٰہِ جَاءَتِ امْرَاَةٌ اِلیٰ عُمَرَ فَقَالَتْ اِنِیّ زَنَیْتُ فَطَہِّرْنِیْ فَاَمَرَ بِہَا اَنْ تُرْجَمَ فَقَالَ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ تزویج وَ رَبِّ الْکَعْبَةِ۔
(فروعِ کافی: جلد2 صفحہ198)
ترجمہ: یعنی سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے مجھے پاک کیا جائے تو آپ نے حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر مل گئی تو آپ نے اس عورت سے پوچھا کہ تو نے کس طرح زنا کیا؟
وہ بولی کہ میں جنگل میں جا رہی تھی مجھے سخت پیاس لگی میں نے ایک اعرابی سے پانی مانگا اس نے اس شرط پر پانی دینے پر رضامندی ظاہر کی کہ میں اپنے نفس پر اس کو قدرت دوں چونکہ پیاس کی شدت زیادہ تھی میں نے اپنے نفس پر اس کو قدرت دے دی تو امیر المؤمنینؓ نے فرمایا کہ مجھے قسم ہے رب الکعبہ کی کہ یہ نکاح ہی ہے۔
دلیلِ سوم:
حق تعالیٰ فرماتا ہے:
فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 3)
ترجمہ: اگر تمہیں خوف ہو کہ ایک سے زیادہ عورتوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی عورت پر قناعت کرو یا لونڈیاں کافی ہیں۔
اس جگہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے بخوفِ اسقاطِ عدل ایک منکوحہ عورت کرنے یا صرف لونڈیاں رکھنے کا حکم دیے کر خاموشی اختیار کی ہے اور کسی تیسری قسم کی مقاربت کا ذکر نہیں کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سوائے اور کسی قسم کی مجامعت شرع میں جائز نہیں ہے حالانکہ یہ مقام اس امر کا مقتضی تھا کہ وہ تمام صورتیں یہیں ذکر کی جاتیں کہ جن میں نا انصافی محال الوقوع ہے ممتوعات کا ذکر اس جگہ اشد ترین ضروری تھا کیونکہ یہی ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں نا انصافی نا ممکن الوقوع ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ممتوعہ عورت کا بعدِ وصولی معاوضہ جو اسے ہر حالت میں پیشگی دیا جانا شرائطِ متعہ سے ہے اور کسی قسم کا حق مرد پر باقی نہیں رہتا اور جہاں کوئی حق نہ ہو وہاں حق تلفی بے معنیٰ چیز ہے حالانکہ اس کے برعکس ایک ہی منکوحہ عورت یا لونڈیوں کی صورت میں بھی نہ کچھ نہ کچھ حقوق بذمہ شوہر واجب ہوتے ہیں جن کے ترک کرنے سے شوہر پر ظلم کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
پھر اس آیت کا آخری حصہ:
ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ۞
(سورۃ النساء: آیت 3)
بالخصوص قابلِ توجہ ہے جس کے معنیٰ یہ ہیں: یہ صورت قریب ترین ہے کہ تم نا انصافی سے بچو یعنی اس کے سوا کوئی اور بہترین تدبیر نا انصافی سے بچنے کے لیے نہیں ہے ذٰلِکَ کا مشارٌ الیہ ذکرِ ما قبل ہے جس میں دو صورتیں مذکور ہیں یعنی عورت سے نکاح کرنا اور لونڈی سے مقاربت کرنا پس اندریں صورت سب سے مقدم ذکر اس جگہ زنِ ممتوعہ کا تھا نہ کہ لونڈی کا۔
معنیٰ خیز سکوت اللہ پاک نے اسی جگہ ہی اختیار نہیں کیا بلکہ قرآنِ مجید میں نکاح کے احکام جس جگہ پر آئے ہیں وہاں منکوحات کے علاوہ صرف لونڈیوں کا ہی ذکر ہے اور بس چنانچہ ملاحظہ ہو:
1: حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
ترجمہ: حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور شوہر والی عورتیں سوائے وہ جو تمہاری لونڈیاں ہو جائیں۔
2: يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ وَمَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت 50)
ترجمہ: اے پیغمبر ہم نے حلال کیں تمہارے لیے تمہاری بیویاں جن کے تم نے مہر دیے ہیں اور تمہاری لونڈیاں۔
اس جگہ پر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کے ساتھ ایک خاص رعایت کرنا چاہتا ہے چنانچہ مؤخر الذکر آیت کے قریب ہی اس کا ذکر بایں الفاظ کیا گیا ہے جو نمبر 3 میں درج ہے۔
3: وَامۡرَاَةً مُّؤۡمِنَةً اِنۡ وَّهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِىِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِىُّ اَنۡ يَّسۡتَـنۡكِحَهَا خَالِصَةً لَّـكَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت 50)
ترجمہ: حلال ہے تم پر اگر کوئی مسلمان عورت مفت اپنے تئیں پیغمبر کو دے دے یعنی بغیر مہر کے نکاح کرنا چاہے بشرط یہ کہ وہ بھی اس کو نکاح میں لینا چاہیں یہ بات خاص تمہارے ہی لیے ہے عام مسلمانوں کے لیے نہیں۔
یہاں بھی اللہ پاک اپنے محبوب کو سوائے منکوحات اور لونڈیوں کے تیسری قسم کی عورت عطا نہیں کرتا اگر کچھ رعایت کی ہے تو صرف اس امر میں کہ آنجناب بغیر مہر کے مومنہ عورتیں اپنے نکاح میں لے آئیں اگر متعہ ایسا ہی ثواب کا کام ہوتا جیسا کہ شیعہ کتب میں اس کی تعریف میں ورقوں کے ورق سیاہ کیے ہوئے ہیں تو نبی کریمﷺ سے باری تعالیٰ کو کون زیادہ محبوب و مرغوب تھا کہ جس کے لیے یہ نعمت اٹھا رکھی تھی۔