مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃاللہ کا فتویٰ…

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃاللہ کا فتویٰ رافضی کی نماز جنازہ میں شرکت کرنا


سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ شیعہ کی نمازِ جنازہ میں سنی کی شرکت از روئے شرع کیسی ہے؟ جب کہ 21 دسمبر 1973ء کو اخبار "روزنامہ جنگ کراچی" میں ہمارے بعض علماء کی شرکت کی خبر شائع ہو چکی ہے لہٰذا اگر شیعہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے تو خیر، ورنہ علمائے کرام کی شرکت کیا معنیٰ؟

جواب: روافض، جن کے عقائد کفر تک پہنچ چکے ہوں، آج کل اس قسم کے روافض بکثرت موجود ہیں یہ لوگ معاذ اللہ حضرت علیؓ کی الوہیت کے قائل ہیں، عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگاتے ہیں، قرآنِ کریم کو محرف کہتے ہیں، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں جب کہ قرآن کے نصوصِ قطعیہ ان کے عقائد کے خلاف شاہد عدل ہیں۔ 

ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنا درست نہیں کیونکہ نمازِ جنازہ کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ میت مسلمان ہو، علاوہ ازیں نمازِ جنازہ دعا ہے، اور کافر کے لیے دعا کرنا بصریحِ قرآنی حرام ہے علمائے امت نے اہلِ ہوا کی نمازِ جنازہ پڑھنے کو مردود قرار دیا ہے۔

امام العصر علامہ حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ نے اپنی کتاب اکفار الملحدین میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ کا فتویٰ قدریہ کے بارے میں یہ نقل فرمایا ہے کہ: 

قدریوں کو نہ سلام کرے، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے، نہ ان کے بیماروں کی عیادت کی جائے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ فتویٰ حضورِ اکرمﷺ کی حدیث کے عین مطابق ہے حضرت ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

منکرینِ تقدیر اس امت کے مجوسی ہیں، وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور وہ مریں تو ان کے جنازوں میں شرکت نہ کرو۔

لہٰذا روافض، قدریہ سے کم نہیں، بلکہ اپنے کفریہ عقائد اور خبث باطنی میں قدریہ سے کہیں زیادہ ہیں امام دار الہجرۃ حضرت مالک بن انسؓ نے ان کے حق میں فرمایا کہ: روافض اس امت کے مجوسی ہیں اسی طرح ایک موقع پر وہ فرمایا: گمراہ فرقوں میں روافض سب سے زیادہ جھوٹے ہیں۔

اگر کسی رافضی کے مندرجہ بالا کفریہ عقائد نہ بھی ہوں تب بھی علماءِ دین کے لیے ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا مداہنت ہے اور قطعاً جائز نہیں رافضی دو قسم کے ہیں: 

ایک وہ جن کے عقائد حدِ کفر تک پہنچ گئے ہوں، ایسے شخص کی نمازِ جنازہ اصلاً درست نہیں، کیونکہ نمازِ جنازہ کی شرائط میں میت کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے دوسرا وہ جس کے عقائد صرف حدِ بدعت تک ہوں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے جنازہ کی نماز کسی نے نہ پڑھی ہو تب تو پڑھ لینا چاہیے، کیونکہ جنازہ مسلم کی نماز فرض علی الکفایہ ہے، اور کسی نے پڑھ لی ہو مثلاً اس کے ہم مذہب لوگ موجود ہیں اور وہ پڑھ لیں گے تو اس صورت میں اہلِ سنت ہرگز نہ پڑھیں۔ 

(فتاویٰ بینات: جلد2 صفحہ417)