آیت مباہلہ سے روافض کا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ…

آیت مباہلہ سے روافض کا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ (رض) کا خلیفہ بلا فصل ہونے پر استدلال

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

واقعہ مباہلہ اور رد روافض

 اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے نصاری کی جانب ایک فرمان بھیجا جس میں تین چیزیں ترتیب وار ذکر کی گئی تھیں۔

(١) اسلام قبول کرو

(٢) یا جزیہ ادا کرو

( ٣) یا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔

نصاری نے آپس میں مشورہ کر کے شرجیل، عبداللہ بن شرحبیل اور جبار بن قیص کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا، ان لوگوں نے آکر مذہبی امور پر بات چیت شروع کی، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کرنے میں ان لوگوں نے انتہائی بحث و تکرار سے کام لیا، اتنے میں یہ آیت مباہلہ نازل ہوئی، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصاری کو مباہلہ کی دعوت دی اور خود بھی حضرت فاطمہ (رض) ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ، امام حسن اور حسین (رض) کو ساتھ لے کر مباہلہ کے لیے تیار ہو کر تشریف لائے۔ شرحبیل نے یہ دیکھ کر اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ یہ اللہ کا نبی ہے، نبی سے مباہلہ کرنے میں ہماری ہلاکت ہے، بربادی یقینی ہے، اس لیے نجات کا کوئی دوسراراستہ تلاش کرو، ساتھیوں نے کہا کہ تمہارے نزدیک نجات کی کیا صورت ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے نزدیک بہتر صورت یہ ہے کہ نبی کی رائے کے موافق صلح کی جائے، چنانچہ اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا، چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر جزیہ مقرر کر کے صلح کردی، جس کو انھوں نے بھی منظور کرلیا۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد ١) 

اس آیت میں ابناءنا سے مراد صرف اولاد صلبی نہیں ہے بلکہ عام مراد ہے خواہ اولاد ہو یا اولاد کی اولاد ہو، کیونکہ عرفا ان سب پر اولاد کا اطلاق ہوتا ہے۔ لہٰذا ابناءنا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نواسے حضرات حسنین (رض) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے داماد حضرت علی (رض) داخل ہیں۔ خصوصا حضرت علی (رض) کو ابناءنا میں داخل کرنا اس لیے بھی صحیح ہے کہ آپ (رض) نے تو پرورش بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آغوش میں پائی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے بچوں کی طرح پالا پوسا اور آپ (رض) کی تربیت کا پورا پورا خیال رکھا، ایسے بچے پر عرفا بیٹے کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس بیان سے یہ بات واضح ہوگئ کہ حضرت علی (رض) اولاد میں داخل ہیں، لہٰذا روافض کا آپ کو ابناءنا سے خارج کر کے اور انفسنا میں داخل کر کے آپ (رض) کی خلافت بلافصل پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔ 

(١) :۔ ” انفسنا “: جمع کا صیغہ ہے جو کئی نفوس پر دلالت کرتا ہے ایک نفس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ، اور دوسرے نفوس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین کے، وحدت نفس پر کوئی لفظ دلالت نہیں کر رہا ہے لہٰذا استدلال باطل ہوا ۔

(٢) :۔ سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اوصاف حاصل نہیں ہیں

1️⃣ آیت مباہلہ میں اصحاب لانے کا بیان ہی نہیں ہوا۔ قریبی رشتہ داروں کو لانے کا ذکر ہے۔ کیا نبی کریم حکم الہی کے خلاف صحابہ کی جماعت بھی ساتھ لیکر چلتے؟

2️⃣ اہلبیت کی اپنی فضیلت و شان ہے نسبت نبی کریم ایک معیار ہے۔ رسول کے بعد امت میں افضل ہونا ایک اور معیار ہے۔ جس طرح تمام نبیوں سے افضل ہونا ایک اور معیار ہے۔ ہر معیار کا پیمانہ  بھی مختلف ہوتا ہے۔ حضرت آدم پہلے نبی تھے۔  یعنی ترتیب کے پیمانہ سے حضرت آدم پہلے نمبر پر ہیں۔ حالانکہ سردار الانبیاء نبی کریم ہیں جبکہ آخری نمبر پر ہیں۔

آیت مباہلہ میں سب سے افضل کو ساتھ لانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور یہ بات بھی سُنی و شیعہ معتبر کتب سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آخری دنوں میں مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر صدیق کو اپنی جگہ نماز کی امامت کے لئے مقرر فرمایا۔


صفحہ 2 از 2