روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب…

روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب (اہل سنت و اہل تشیع کتب کی روشنی میں)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

جب مشرق کی طرف سے رات کی سیاہی منہ دکھائے اور مغرب میں دن چھپ جائے تو روزہ دار اپنا روزہ افطار کرلے۔ 

غروب ہوتے ہی فوراً روزہ افطار کر لینا مستحب ہے جیسا کہ سحری کھانا آخر رات میں مستحب ہے۔

(کمافی صحیح مسلم: صفحہ، 351 جلد، 1)

سحر اور افطار کی صحیح علامت یہ ہے کہ جب رات کے آخری حصے میں افق کے مشرقی کنارے پر سفیدہ صبح کی باریک سی دھاری نمودار ہو کر اوپر بڑھنے لگے تو سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور جب دن کے آخری حصے میں مشرق کی جانب سے رات کی سیاہی بلند ہوتی نظر آئے تو افطار کا وقت آ جاتا ہے آج کل لوگ سحری اور افطار دونوں کے معاملے شدت احتیاط کی بنا پر کچھ بے جا تشدد برتنے لگے ہیں مگر شریعت نے ان دونوں اوقات کی کوئی ایسی حد بندی نہیں کی ہے جس سے چند سیکنڈ یا چند منٹ اِدھر اُدھر ہو جانے سے آدمی کا روزہ خراب ہو جاتا ہو۔

سحر میں سیاہی شب سے سپیدہ سحر کا نمودار ہونا اچھی خاصی گنجائش اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک شخص کے لیے یہ بالکل صحیح ہے کہ اگر عین طلوعِ فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی ہو تو وہ جلدی سے اٹھ کر کچھ کھا پی لے۔

حدیث میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص سحری کھا رہا ہو اور اذان کی آواز آ جائے تو فوراً چھوڑ نہ دے بلکہ اپنی حاجت بھر کھا پی لے اسی طرح افطار کے وقت میں بھی غروب آفتاب کے بعد خواہ مخواہ دن کی روشنی ختم ہونے کا انتظار کرتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

نبیﷺ سورج ڈوبتے ہی سیدنا بلالؓ کو آواز دیتے تھے کہ لاؤ ہمارا شربت سیدنا بلالؓ عرض کرتے کہ یا رسول اللہﷺ: ابھی تو دن چمک رہا ہے آپﷺ فرماتے کہ جب رات کی سیاہی مشرق سے اٹھنے لگے تو روزے کا وقت ختم ہوجاتا ہے یعنی آغازِ سحر سے لے کر آغازِ رات یعنی غروبِ آفتاب تک روزہ کا وقت ہے غروبِ آفتاب کے فوراً بعد روزہ افطار کر لینا چاہیے یہود غروبِ آفتاب کے بعد احتیاطاً اندھیرا چھا جانے تک روزہ نہیں کھولتے تھے اس لیے آپ نے فرمایا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک روزہ جلد افطار کرے گی (روزہ کھولنے میں جلدی اور سحری دیر سے کھانا چاہیے)۔ 

(بخاری کتاب الصوم باب تعجیل الافطار)

 سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر دیں۔

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: أذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِم۔ (صحيح البخاری: 1954)

جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر کو چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہوگیا۔

افطاری میں جلدی کرنا:

سورج  غروب ہوتے ہی فوراً روزہ افطار کر لینا چاہیے نبی مکرمﷺ نے فرمایا: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ۔(صحيح البخاری: 1957)۔

لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے افطاری میں بلاوجہ تاخیر کرنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے ۔

یہی حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ۔

دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصارىٰ تاخیر سے افطار کرتے ہیں۔ (سنن أبی داؤد: 2353)

جس طرح سورج غروب ہو جانے کے بعد بلاوجہ تاخیر کرنا ممنوع ہے اسی طرح غروبِ آفتاب سے قبل جان بوجھ کر افطاری کرنا بھی ناجائز ہے۔

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِی رَجُلَانِ فَأَخَذَا بِضَبْعَی فَأَتَيَا بِی جَبَلًا وَعْرًا فَقَالَا: اصْعَدْ فَقُلْتُ: إِنِّی لَا أُطِيقُهُ فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ فَصَعِدْتُ حَتَّىٰ إِذَا كُنْتُ فِی سَوَاءِ الْجَبَلِ إِذَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ ثُمَّ انْطُلِقَ بِی فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِم۔ (صحيح ابنِ خزيمة: 1986)

اس دوران کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں اچانک میرے پاس دو آدمی آئے انہوں نے میرے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے اور کہنے لگے کہ چڑھ میں نے کہا میں اسکی طاقت نہیں رکھتا تو انہوں نے کہا ہم آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں میں نے چڑھنا شروع کیا حتىٰ کہ میں جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو وہاں سخت قسم کی آوازیں آنے لگیں میں نے پوچھا کہ کیسی آوازیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ جہنمیوں کی چیخ و پکار ہے پھر وہ مجھے لے کر گئے جہاں میں نے کچھ لوگوں کو پاؤں کے پٹھوں کے بل الٹا لٹکے ہوئے دیکھا جن کی باچھیں چیر دی گئی تھیں اوران سے خون بہہ رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر دیا کرتے تھے جان بوجھ کر وقت سے قبل روزہ افطار کر دینے والوں کا اتنا عبرت ناک انجام ہے تو وہ لوگ جو روزہ رکھتے ہی نہیں بلکہ رمضان کے مہینے میں دن بھر کھاتے پیتے رہتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا؟۔

"سیدنا عمرؓ راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب رات یہاں مشرق سے آ جائے اور دن یہاں سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے"۔

جب راوی ہی سیدنا عمرؓ ہیں تو ان کے متعلق شیعہ کا یہ تاثر دینا کہ وہ اندھیرا ہونے پر افطار کرتے تھے صحیح نہیں بالفرض اگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ سیدنا عمرؓ نمازِ مغرب کے بعد افطار کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے پانی یا کھجور سے افطاری کر کے نماز جلدی پڑھ لیتے تھے پھر باقائدہ کھانے کا اہتمام کرتے تھے۔

صفحہ 2 از 3