سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 3 از 3

سیدنا علیؓ کی روحانیت بہت صاف اور شفاف تھی آپؓ دنیاوی آلائشوں سے پاک اور اس کی آرائشوں تک سے دور دور رہتے تھے اور کیوں نا رہتے آپؓ تو بچپن سے ہی حضورﷺ کے دامن تربیت میں آگئے تھے آپؓ توحید الٰہی اور معرفت ربانی میں ایک خاص مقام پر تھے فکر آخرت اور خشیت الٰہی آپؓ کی زندگی کے ہر حصہ سے عیاں رہی نماز کا وقت آتا تو آپؓ ہر کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور کسی مقبرہ سے گزرتے تو فکر آخرت سے رو دیا کرتے تھے آپؓ کی ذات زہد و تقویٰ کا مرقع تھی اور آپؓ کی درویشانہ زندگی سب کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی آپؓ کا کھانا پینا پہنا اور رہن سہن کسی پر مخفی نا تھا آپؓ بیت المال سے اتنا ہی لیتے تھے جتنا ضرورت ہوتا اور اس میں بھی بڑی احتیاط کرتے کہ کہیں کسی دوسرے کی حق تلفی نا ہو جائے آپؓ کے پاس نا کوئی مکان تھا نا کوئی بڑی جائیداد تھی جو کچھ آپؓ کے پاس ہوتا یا کبھی آ جاتا آپؓ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے اور اس پر خوش ہوتے تھے۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ چوتھے خلیفہ راشد ہیں جو شخص آپؓ کو خلیفہ راشد نہیں مانتا اس کا اہلِ سنّت و الجماعت سے کوئی تعلق نہیں امام احمدؒ اس شخص کو گدھے سے زیادہ بدتر سمجھتے ہیں۔

سیدنا علیؓ کے اپنے سے پہلے کے تینوں پیش روؤں کے ساتھ بڑے اچھے اور مخلصانہ تعلقات رہے اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہوئیں ہیں یہ سب حضرات ایک دوسرے کو ہمیشہ محبت و عظمت سے دیکھتے تھے قرآن کریم نے ان کے آپس کے دوستانہ تعلقانہ کی تصدیق کی ہے البتہ جن لوگوں نے ان کے درمیان نفرت و عداوت کے قصے گھڑے ہیں یقین کیجیے وہ سب جھوٹ ہیں مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے بدگمان کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔

اللّہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کو بےشمار کمالات عطا فرمائے اور بعض کمالات میں ان کو خصوصیات سے بھی نوازا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپؓ معاذ اللہ کوئی ما فوق الفطرت ہستی تھے اور ان کمالات کی بنا پر آپؓ خدائی طاقتوں کے حامل ہوگئے تھے ایسا نہیں افسوس کہ شیعہ روایات میں سیدنا علیؓ کی جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ اس تصویر سے قطعاً مختلف ہے جو حضورﷺ کے صحابی خلیفہ راشد سیدنا علیؓ کی ہیں وہ تمام صفات اور شانیں جو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خاص ہیں اور نبوت کی وہ خصوصیات جو صرف اور صرف حضور اکرمﷺ کی ہیں وہ سب کی سب بڑی بےباکی سے سیدنا علیؓ میں اتار دی گئی ہیں اور یہ لوگ اس پر اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ یہ سب عقائد و نظریات مصر کے ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے ایک خاص مقصد کے تحت سیدنا علیؓ اور اہلِ بیت نبوت کی محبت کے نام پر وضع کیے ہیں اور سیدنا علیؓ اس سے بخوبی واقف تھے کہ ابنِ سباء کی یہ کاروائی ان کی محبت کے لیے نہیں، صف اسلام میں رخنہ اندازی اور اسلامی عقائد میں انتشار پیدا کرنے کے لیے ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے کھل کر ان عقائد کی تردید کی اپنے آپ کو انسان کہا اور انہیں توبہ کی تلقین کی جو آپؓ کو خدا بتلانے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے اور نہ ماننے والوں کو پھر آپؓ نے بطور سزا آگ میں جلا دیا تھا۔

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سیدنا علیؓ سے محبت اور عقیدت رکھے اور ان کی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے لیے کی گئی خدمات اور احسان کو یاد رکھے اور آپؓ کے لیے دعا اور ایصال ثواب میں کمی نہ کرے یہ اہلِ سنت والجماعت کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ حضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ اہلِ بیت کی سچی محبت خاتمہ بالخیر کی ضمانت ہے۔ 

حضورﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی کہ وہ طبعی موت نہ مریں گے بلکہ آپؓ کو قاتلانہ حملے میں شہادت کی موت ملے گی اور آپؓ کا خون آپؓ کے سر کے بالوں اور داڑھی کو سرخ کر دے گا بدری صحابی سیدنا فضالۃؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علیؓ بہت بیمار ہوئے تو ہم آپؓ کی عیادت کو آئے اور بیماری کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ اگر خدانخواستہ آپؓ کو موت آجائے تو کیا کریں کیا یہاں کے بدو آپؓ کو یہاں دفن کر دیں گے یا آپؓ کو مدینہ لے جائیں سیدنا علیؓ نے ان سے کہا کہ جناب رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت کی ہے کہ امیر بنے بغیر فوت نہ ہوں گا اور یہ بھی بتایا ہے کہ میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی اس میں یہ بات لپٹی ہوئی ہے کہ حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ ہوگا۔

حضورﷺ نے جس بات کی پیشگوئی فرمائی تھی ٹھیک اسی طور پر آپؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا اور ایک خارجی نے آپؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے، آپؓ کی شہادت کا واقعہ 21 رمضان المبارک 40ھ جمعہ کے دن سحری کے وقت ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر 63 سال تھی، حضرت حسنؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ چار تکبیروں کے ساتھ پڑھائی اور مشہور قول کے مطابق آپؓ کو کوفہ کے دارالامارات میں دفن کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کی آپؓ پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں، آمین 

نوٹ: سیدنا علیؓ کی تفصیلی سیرت کے لیے راقم الحروف کی کتاب "زبدۃ المناقب من حیاۃ سیدنا علی بن ابی طالب"(دو جلد) کا مطالعہ فرمائیے، یہ کتاب 2011ء میں شائع ہوئی تھی۔


صفحہ 3 از 3