سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 3

سیدنا عثمانؓ کے بعد آپؓ امیر المؤمنین ہوئے اور آپؓ نے خلافت کو زینت بخشی، آپؓ خلیفہ راشد تھے اور قرآن کی آیات استخلاف کا ہی تاریخی تسلسل تھے، بعض لوگوں نے آپؓ کو سیدنا عثمانؓ کی شہادت میں ملوث بتانے کی سازش کی تو آپؓ نے اس کی سختی سے تردید کی اور بارہا کہا کہ میں خون عثمانؓ سے بری ہوں اور میرا اس میں کسی طرح کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، آپؓ نے چاہا کہ جن لوگوں کے ہاتھ خونِ عثمانؓ سے رنگین ہوئے انہیں پکڑیں اور سزا دلوائیں مگر وہ آپؓ کے قابو میں نا آئے الٹا انہوں نے آپؓ کو اپنے گھیرے میں لے لیا، آپؓ جب بھی امت کی بھلائی اور خیر خواہی کے سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتے تو یہی وہ لوگ تھے جو آپؓ کے آڑے آجاتے تھے اور مختلف مکرو فریب سے آپؓ کا راستہ روک دیا کرتے تھے، آپؓ نے اپنی بے بسی کی یہ داستان اپنے خطبوں میں بارہا بیان کی ہے۔

سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت عام معمولی واقعہ نا تھا یہ ایک بڑا حادثہ تھا جس نے پوری اسلامی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ قاتلین عثمان پر ہاتھ ڈالنے میں بے بسی کا اظہار کر رہے تھے جب کہ امت مسلمہ انہیں فوری گرفتار کرنے اور سزا دینے پر مصر تھی اس اندیشے کے پیشے نظر کہ پوری دنیا کے مسلمان کسی بڑے انتشار میں نا آجائیں۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور دوسرے اجلہ صحابہؓ اصلاح بین الناس کی خاطر میدان میں اترے اور بتایا کہ اگر شہادت عثمانؓ کا مسئلہ فوری حل نا ہوا اور قاتلین اسی طرح دندناتے پھرتے رہے تو حضور اکرمﷺ کی امت متفرق ہو جائے گی اور ان سب کو جوڑے رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ قاتلین عثمانؓ اپنے انجام کو پہنچیں اور اس طرح یہ فساد رفع دفع ہو جائے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ کے ساتھ یہ معاملہ طے ہونے کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کہ فسادی ایک مرتبہ پھر اپنی گہری سازشی چال چل گئے اور جنگ جمل واقع ہوگئی ابھی اس واقعے سے پوری طرح فارغ بھی نا ہو پائے تھے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اپنے ساتھیوں نے آپؓ کے ساتھ بغاوت کر لی اور آپؓ ہی کے خلاف زور و شور سے میدان میں آگئے اور اب روافض سے خوارج نکلنے لگے یہیں سے نہروان کی آگ بھڑکی اور پھر صفین کی آگ بھڑکا دی گئی اور مسلمان ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آئے اور غیر ارادی تور پر آپس میں الجھ پڑے جس سے امت مسلمہ کو ایک بڑے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس کا تمام فریقوں کو ہمیشہ افسوس رہا تھا۔

سیدنا علیؓ کی خلافت کا پورا دور خانہ جنگی اور شورش کی ہی نظر رہا اور اس پورے دور میں آپؓ ایک لمحہ سکون نا پاسکے آپس کی افراتفری اور بغاوتوں نے آپؓ کو اتنا الجھا دیا تھا کہ اسلامی فتوحات کا سلسلہ جس تیزی سے چلا آرہا تھا وہ سلسلہ رک گیا تاہم آپؓ کی کوشش رہی کہ جن ممالک پر اسلام کا پرچم لہرایا جا چکا ہے وہاں ہونے والی بغاوتوں کو فرو کیا جائے اور اس کی حفاظت میں کوئی کمی اور کوتاہی نا ہو اور مسلمان پھر سے ایک قوت بن کر ابھریں سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آنے لگی مگر آپؓ کی دینوی زندگی کے ایام پورے ہوچکے تھے اور آپؓ اپنے ساتھیوں کی بغاوتوں اور ان کی بار بار نافرمانیوں سے دل برداشتہ تھے اور اس وقتِ شہادت کے منتظر تھے جس کی پیشنگوئی رسول خاتمﷺ نے آپؓ کو دی تھی۔

سیدنا علی المرتضیٰ حضور اکرمﷺ کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے اور گھرانہ نبوت کے ممتاز فرد تھے، حضورﷺ آپ سے بہت محبت اور شفقت کا معاملہ فرماتے تھے، آپ نا ہوتے تو آپﷺ کو آپ کی فکر رہتی اور ملاقات ہو جاتی تو آپﷺ کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نظر آتے، آپ کو حضورﷺ کی تیمارداری اور خدمت کا شرف بھی نصیب ہوا، آپ حضورﷺ کے سیکرٹری بھی تھے، آپ ہی تھے جن سے آپﷺ نے آخری وقتوں میں کاغذ اور قلم مانگا تھا تا ہم یہ آپ کی محبت تھی کہ اس وقت ایک لمحے کو بھی وہاں سے جدا ہونے کو تیار نا ہوئے کہ کہیں آپﷺ اس دنیا سے رخصت نا ہو جائیں، آپ کو حضورﷺ کو غسل دینے اور قبر انور میں اتارنے کا شرف بھی ملا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی مدح و شان میں آیات نازل فرمائیں اور آپﷺ نے خصوصیت کے ساتھ آپ کے فضائل اپنی امت کو بتلائے، آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں آپﷺ نے ان کا نام لے کر ان کو جنت میں جانے اور اپنی معیت پانے کی بشارت دی، آپؓ کو بہت سے ایسے فضائل اور کمالات بھی ملے جن میں آپؓ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے، سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم اور دوسرے تمام اصحاب کرامؓ ہمیشہ آپؓ سے محبت کرتے رہے اور کبھی آپؓ کی عزت و تکریم میں پیچھے نہیں رہے جو دل سیدنا علیؓ کی عظمت و محبت سے خالی ہو اس دل میں ایمان کیسے رہ سکتا ہے جب بھی آپؓ کے خلاف کسی نے لب کشائی کی علمائے اہلِ سنت نے آپؓ کی مدافعت کی اور ایسا کرنا اپنے ایمان کا تقاضا جانا۔

سیدنا علیؓ قرآن و حدیث کے بڑے عالم تھے آپؓ کی بڑی گہری نظر تھی اجلہ صحابہؓ اور تابعینؒ نے آپؓ سے حدیث روایت کی ہے کتب احادیث میں آپؓ کی روایات موجود ہیں سرعت فہم اور گہرائی علم میں بھی آپؓ کمال درجے پر تھے اور صاحب فتویٰ صحابی تھے آپؓ قضا اور علم میں بڑی اونچی شان رکھتے تھے اس بات کا اعتراف اجلہ صحابہؓ نے بھی کیا ہے۔

صفحہ 2 از 3