سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 1 از 3

سیدنا علی المرتضیٰؓ خاندان بنو ہاشم کے چشم و چراغ حضرت عبد المطلب کے پوتے خواجہ ابو طالب کے چوتھے بیٹے اور حضور اکرمﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں، آپؓ کی ولادت مکہ مکرمہ میں کعبہ میں بتائی جاتی ہے، آپؓ پہلے اپنے والد کے گھر میں پلے بڑھے بعد ازاں آپؓ حضورﷺ کے دامن تربیت میں آ گئے اور حضورﷺ کے سفر آخرت تک آپ کے دامن شفقت میں رہے، آپؓ نے بچپن میں نا کبھی کسی بت کو پوجا اور نا کبھی بت خانہ گئے۔

حضورﷺ جب نبوت کی ذمہ داریوں پر لائے گئے تو آپﷺ نے سیدنا علی المرتضیؓ کو دعوتِ اسلام دی، انہوں نے دوسرے دن ہی قبولِ اسلام کا شرف پالیا اور بچپن ہی میں آپؓ کو حضورﷺ کے ہمراہ بارہا عبادت خداوندی میں شامل ہونے کا شرف نصیب ہوا، آپؓ اکثر و بیشتر حضور اکرمﷺ کی خدمت میں رہتے اور جب اور جہاں آپؓ کو اسلام کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت کے سلسلے میں کسی خدمت کے لیے بھیجا جاتا تو آپؓ اس خدمت اور کام کو پوری ذمہ داری سے ادا کر کے آتے تھے۔

سیدنا علی المرتضیؓ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے آپؓ کو مشرکین اور کفار مکہ کی دسترس اور ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھا اور آپؓ ان تمام آزمائشوں اور تکلیفوں سے محفوظ رہے جن سے اس دور کے دیگر مسلمان دو چار تھے شاید ہی کوئی مسلمان ہو جو روسائے قریش کے ہاتھوں ستایا نا گیا ہو مگر سیدنا علیؓ کے بچپن اور خواجہ ابو طالب کی قومی وجاہت کے سبب کسی کو آپؓ پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نا ہوئی۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ہجرت کی رات بستر نبویﷺ پر سونے کا شرف بھی ملا اور لوگوں کی وہ امانتیں جو انہوں نے حضورﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھیں آپﷺ نے حضرت علیؓ کے سپرد کیں حضورﷺ کے ہجرت کے بعد آپؓ نے ان کی امانتیں ان کے لوگوں تک پہنچائیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو حضورﷺ نے ان کو شرف مواخات بخشا اور پھر عملاً آپؓ کو حضرت سہل بن حنیفؓ کی مواخات میں دے دیا پھر کچھ عرصے بعد اپنی لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے ساتھ آپؓ کا عقد فرما دیا اس طرح آپؓ کو حضورﷺ کے چھوٹے داماد ہونے کا شرف بھی ملا آپؓ خاتون جنت کے شوہر نامدار ہوئے اور جوانانِ بہشت کے سرداروں کے والد محترم و معظم بنے۔

اسلام کی حفاظت و حمایت اور اس کی نصرت و مدافعت میں جتنے بھی معارک پیش آئے ہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان تمام معرکوں میں بھر پور حصہ لیا تھا اور اکثر معرکوں میں اسلام کا جھنڈا بھی آپؓ کے ہاتھ میں رہا آپؓ نے بدر و احد، خندق و حنین اور خیبر کے معرکوں میں جرأت و شجاعت کے جوہر دکھائے اور اللہ کی تائید و نصرت ہمیشہ آپؓ پر شامل حال رہی حضور اکرمﷺ کی تلوار ذوالفقار بھی آپؓ ہی کے پاس تھی۔

حضورِ اکرمﷺ کے سفر آخرت کے بعد آپؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر پورے دل کی سچائی سے بیعت کی اور ایک مخلص کارکن کی حیثیت سے ہمیشہ خلیفہ بلا فصل کے ساتھ کھڑے رہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جب بھی آپؓ کو بلایا آپؓ نے ان کی آواز پر لبیک کہا، آپؓ دل سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بڑا مانتے تھے اور کبھی آپؓ کے ادب و احترام میں پیچھے نا رہے، آپؓ نے ابوبکر صدیقؓ کی وفات پر ایک پرسوز خطبہ دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ کے دل میں سیدنا ابوبکرؓ کی قدر و عظمت بہت زیادہ تھی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ بھی آپؓ سے بڑی محبت رکھتے تھے اور آپؓ کے دل میں ان کے لیے بڑی قدر تھی۔

سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت کے حق میں آواز سب سے پہلے کس نے بلند کی تھی؟ سیدنا علیؓ نے اور آپؓ نے صاف کہا تھا کہ ہم سیدنا عمرؓ کے سوا کسی کو خلیفہ قبول نہیں کریں گے، آپؓ نے سیدنا عمرؓ کی کھلے دل سے بیعت قبول کی اور زندگی بھر آپؓ کی حمایت میں کھڑے رہے اور آپؓ کے خلافتی کاموں میں آپؓ کے مشیر و معاون بنے، حضرت عمر فاروقؓ بھی آپؓ سے بڑی محبت کرتے تھے، ان کے دل میں آپؓ کی بڑی قدر موجود تھی، حضرت علیؓ حضورﷺ کے داماد تھے اور حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ کے داماد بنے اور کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ان دونوں گھرانوں میں کبھی نفرت کی آگ لگی ہو ہمیشہ محبت و عقیدت کے چراغ روشن دیکھے گئے ہیں، آپؓ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کو امت مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑا حادثہ اور نقصان بتایا اور آپؓ ہمیشہ ان کے نامہ اعمال پر فخر اور رشک کرتے رہے اور آپؓ کو امام ہدایت سمجھتے رہے۔

سیدنا عثمان ذوالنورینؓ جب مسلمانوں کے خلیفہ چن لیے گئے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ مسلمانوں میں دوسرے تھے جنہوں نے سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی پہلی بیعت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے کی تھی، آپؓ حضرت عثمانؓ کی محض رعایا نا تھے آپؓ کے ہم زلف دوست اور مخلص ساتھی بھی تھے۔ سیدنا عثمانؓ نے خلافت کے اکثر معاملات میں آپؓ کو اپنے ساتھ شریک رکھا تھا اہم معاملات میں حضرت ذوالنورینؓ ہمیشہ آپؓ سے مشورہ بھی فرماتے تھے سیدنا عثمانؓ گھرانہ نبوت کے بڑے داماد تھے اور سیدنا علیؓ اسی گھرانے کے چھوٹے داماد ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دل میں آپؓ کی بڑی محبت تھی اور وہ آپؓ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان غنیؓ کو دولت سے نوازا تھا اور آپؓ کا یہ مال مسلمانوں کی خدمت میں بار بار کام آتا رہا، سیدنا عثمانؓ کے مال سے سیدنا علیؓ بھی کئی مرتبہ فیض یاب ہوئے تھے خصوصاً سیدہ فاطمہؓ کا مہر سیدنا علیؓ نے آپؓ کے مال سے ادا کیا تھا۔

صفحہ 1 از 3