سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور فاروقی مالی و اداری تنظیمات -…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور فاروقی مالی و اداری تنظیمات

  علی محمد محمد الصلابی

1۔ مالی امور میں:

الف: خلیفہ کے اخراجات:

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد جب حضرت عمر فاروقؓ مسلمانوں کے خلیفہ بنے تو ایک طویل مدت تک آپ بیت المال سے اپنے لیے کچھ نہ لیتے تھے اور پھر ایسا وقت آ گیا کہ سخت ترین حالات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تجارت کا منافع ضرورت کے لیے کافی نہ ہوتا تھا، اس لیے کہ زیادہ تر وقت رعایا کے معاملات میں لگ جاتا تھا، حالات کی سنگینی سے مجبور ہو کر حضرت عمر فاروقؓ نے اصحابِ رسول اللہ کو بلا بھیجا اور ان سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا، حضرت عمر فاروقؓ نے کہا: میں نے خلافت اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے خود کو اسی میں مکمل طور سے مشغول کر لیا ہے، لہٰذا اپنے اخراجات کے لیے مجھے اس سے کتنا لینے کی اجازت دیتے ہو؟ حضرت عثمان بن عفان اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہم نے کہا: آپ اس میں سے کھا پی سکتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ سے پوچھا! آپ کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: صرف صبح اور شام کا کھانا لے لیجیے۔

(الخلافۃ الراشدہ: یحییٰ: صفحہ 270) اس کی سند صحیح ہے۔)

حضرت عمرؓ نے اسی پر عمل کیا اور بیت المال سے اپنی آمدنی کی وضاحت ان الفاظ میں کی:

’’اللہ کے مال میں، میں نے خود کو یتیم کے نگراں کے قائم مقام بنایا ہے، اگر میں اس سے بےنیاز ہوا تو اسے بھی چھوڑ دوں گا اور اگر مزید ضرورت محسوس ہوئی تو معروف طریقہ سے کھاؤں گا۔ ‘‘

(الخلافۃ الراشدۃ: دیکھیے۔ یحییٰ 270، اس کی سند صحیح ہے۔)

ب: سواد عراق کے بارے سیدنا میں علی رضی اللہ عنہ کی رائے:

جب جنگ کے ذریعہ سے عراق کی وہ زمین فتح ہوئی جسے’’ارض سواد‘‘ کہا جاتا ہے تو کئی صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کو مشورہ دیا کہ اس زمین کو فاتحین کے درمیان تقسیم کر دیں لیکن زمین کی کشادگی و شادابی دیکھ کر حضرت عمر فاروقؓ کی دور رس نگاہیں اس مشورہ پر مطمئن نہ ہوئیں، کیونکہ حضرت فاروق اعظمؓ اسے بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے چھوڑنا چاہتے تھے، چنانچہ سیدنا علیؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو مشورہ دیا کہ اسے تقسیم نہ کریں، دونوں کی آراء یکساں ٹھہریں اور حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کا مشورہ قبول کر لیا، اور کہا:

’’اگر بعد میں آنے والے مسلمان نہ ہوتے تو میں جن علاقوں کو فتح کرتا انھیں وہاں کے باشندوں میں تقسیم کر دیتا جیسا کہ نبی کریمﷺ نے خیبر کو تقسیم کر دیا تھا۔‘‘ 

(الأموال: قاسم بن سلام: صفحہ 57، خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 75)۔

ج: تم اس مال کو ضرور تقسیم کر دو:

سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس ایک مرتبہ بہت سارا مال آیا، مستحقین میں تقسیم کرنے کے بعد کچھ مال بچ گیا، تو سیدنا عمر فاروقؓ نے اس کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا، سب کا مشورہ یہ تھا کہ کسی ناگہانی آفت کے لیے اسے باقی رہنے دیں۔ حضرت علیؓ نہایت خاموش بیٹھے تھے، حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت علیؓ کی رائے معلوم کرنا چاہی۔ حضرت علیؓ نے انھیں دور نبوی میں بحرین سے آئے ہوئے مال کا واقعہ یاد دلایا اور کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا تھا، سب کا سب تقسیم کر دیا تھا، پھر حضرت عمرؓ حضرت علیؓ سے کہنے لگے اے علی! آپ اس مال کو ضرور تقسیم کر دیں۔ سیدنا علیؓ نے اسے تقسیم کیا۔

(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 94، انقطاع کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔)

شاید یہ واقعہ دوا وین مرتب کیے جانے سے پہلے کا ہے۔ 

(خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 75)۔