بیشتر اس کے کہ آیاتِ قرآنی سے حرمتِ متعہ ثابت کی جائے، یہ امر از بس ضروری ہے کہ قرآنِ کریم نے اپنی تفہیم کے جو اصول مقرر کیے ہیں ان کو ظاہر کر دیا جائے، تاکہ انہیں اصول کی رو سے آیاتِ قرآنی کے معانی کیے جائیں۔
قاعدہ اول:
قولہ تعالیٰ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ، بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍ۞
(سورۃ الشعراء: آیت 26)
ترجمہ: ہم نے قرآن کو معروف عربی زبان میں نازل کیا ہے۔
یعنی قرآن شریف کے الفاظ بلحاظِ لغت انہیں معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں جن معنوں کے یہ الفاظ بوقت نزول قرآن استعمال کئے جاتے تھے یہ الفاظ قرآن و عربی زبان میں حقیقت و مجاز استعارہ و کنایہ تشبیہ و تمثیل وغیرہم کے اظہار میں یکساں طور پر استعمال ہوئے ہیں وگرنہ لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞
(سورۃ یوسف: آیت 2) بے معنیٰ فقرہ ہے۔
قاعدہ دوم:
قولہ تعالیٰ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞
(سورۃ النساء: آیت 82)
ترجمہ: اور اگر یہ قرآن سوائے اللہ کے کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بے شمار اختلاف ہوتے۔
یعنی اللہ پاک کے کلام میں تناقض فی الاحکام نہیں ہو سکتا اگر کہیں غلط تاویل بھی کی جائے تو خود قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہوں پر اس کے مصلح آیات رکھ دی ہوئی ہیں، جن کی مدد سے غلطی کا ازالہ اور رفع تناقض کیا جاتا ہے اور یہی معنیٰ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ۞
(سورۃ الحجر: آیت 9) کے ہیں وگرنہ حق تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کے واسطے مسلح فوج تو رکھی نہیں ہوئی اگر حفاظ کے ذریعے سے الفاظ کی حفاظت چلی آتی ہے تو معنیٰ کی حفاظت کے لیے خود قرآن میں مصالحہ موجود نہ ہو تو یہ لفظی حفاظت دراصل کچھ حفاظت نہیں اور اللہ کے محافظ ہونے پر اسی طرح حرف آئے گا جس طرح تحریف بالفاظ سے آ سکتا ہے کیونکہ معانی دونوں طرح سے اٹل ہو جاتے ہیں خواہ تحریف بالفاظ یا تحریف بالمعنیٰ۔
القصہ جہاں کہیں کسی آیت کے معانی میں اختلاف وارد ہو تو لغاتِ عربی اور دیگر آیات کی مدد سے اس اختلاف کی اصلاح کرنی چاہیے۔