حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ کا فتویٰ…

حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمۃاللہ کا فتویٰ مرزائیوں اور شیعوں کے لیے امام بننے اور ان کے غمی میں شرکت کرنے کا حکم


سوال:ایک گاؤں میں تین مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ شیعہ، مرزائی، اہلِ سنت و الجماعت، مگر امام حنفی عقیدہ رکھتا ہے، یعنی اہلِ سنت و الجماعت ہے کیا وہ امام ہر سہ مذہب کے لوگوں کی امامت کر سکتا ہے؟ اور ان کی شادی غمی و دیگر مواقع پر شریک ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مرزائی و شیعہ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانے میں استعمال کرنا امام کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب: علمائے اہلِ سنت و الجماعت کے فتویٰ کے مطابق مرزائی عقیدے والے کافر ہیں ان کی شادی غمی میں شرکت، ان کی میت پر نمازِ جنازہ، ان کے امام کا اقتداء کرنا وغیرہ تمام امور ناجائز و ممنوع ہیں، ان کا ذبیحہ بھی ناجائز ہے۔ 

شیعہ کا جو فرقہ نصوصِ قطعیہ کا منکر ہے اس کا بھی یہی حکم ہے اور جو فرقہ نصوصِ قطعیہ کا منکر نہیں وہ کافر نہیں، اس کا ذبیحہ درست ہے لیکن حتی الوسع اختلاط اس سے بھی نہیں چاہیے کہ فسادِ عقائد کا قوی اندیشہ ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہیں: 

نعم لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق او اعتقد الالوهية فی علی او ان جبرئيل عليه السلام غلط في الوحي او نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے: 

ومنها ای من شرائط الذكاة ان يكون ممسلماً أو كتابياً ، فلا تؤكل ذبيحة اهل الشرك والمرتد۔ 

(فتاویٰ ختمِ نبوت: جلد1 صفحہ 485)