رافضی کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ پڑھنا
سوال: یہاں پر فقط ایک گھر روافض، درمیان مسلمانوں اور برہمنوں کے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، اگر وہ روافض مر جائے، تو اس کا کفن مسلمانوں پر واجب ہے یا نہیں؟ اگر لازم ہے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھیں یا نہیں؟
جواب: اگر ان روافض میں سے کوئی شخص مر جائے اور لوگ ان میں موجود ہوں، تو وہی اپنی میت کی تجہیز و تکفین کر لیں لیکن اگر ان میں کوئی موجود نہ ہو، تو دوسرے مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کی میت کی تجہیز و تکفین کریں پھر اگر وہ رافضی ایسے عقیدے کا تھا کہ اس پر کفر کا حکم جاری نہیں ہوتا تھا تو اس کی تجہیز و تکفین مثلِ مسلمین کے کریں اور نمازِ جنازہ بھی پڑھ کر دفن کر دیں لیکن اگر اس پر کفر کا حکم جاری ہو سکتا تھا، تو اس کی تجہیز و تکفین میں سنت کی رعایت نہ کریں اور نہ نماز پڑھیں، ویسے ہی دفن کر دیں۔
(کفایت المفتى: جلد5 صفحہ347)
