دلیل نمبر 2 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

دلیل نمبر 2

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

دلیل نمبر 2: ایجادِ ذکور و اناث میں حکمت و حلت خواہ نظامِ ازدواج و تناسل ہے لیکن انسان چونکہ اشرفِ موجودات و مکلف ہے اس لیے راہِ ازدواج و تسلسلِ تناسل مقرر کیا گیا ہے اور وہ تین قسم کا ہے عقدِ دائم، عقدِ منقطع، اور ملکِ یمین، کیونکہ انسان بالضرورت ایک درجہ پر نہیں ہے۔م بعض امیر بعض غریب اور بعض فقیر اور علاوہ ازیں گاہے انسان سفر میں ہوتا ہے اور گاہے حضر میں اگر اللہ پاک نے ہر درجہ اور ہر حالت کے لیے سہولت مہیا نہ کی ہو تو غرضِ الٰہی باطل ہوتی ہے۔

*جواب:* انسان کی مالی حیثیت کسی طرح بھی مانعِ نکاح نہیں امیروں کے لیے امیر، غریبوں کے لیے غریب اور فقیروں کے لیے فقیر مرد و زن فضائے عالم میں بکثرت موجود ہیں رہی یہ حالت کہ انسان بعض اوقات سفر میں ہوتا ہے اس لیے بتقاضائے بشریت اسے وہاں مجامعت کی ضرورت لاحق ہو سکتی ہے ایسا انسان اپنی منکوحہ کو ہمراہ لے جا سکتا ہے اگر یہ ممکن نہ ہو تو سفر میں حسبِ حیثیت منکوحہ یا لونڈی حاصل کر سکتا ہے اور اگر وجہِ غربت یہ بھی ممکن نہیں تو ایسے انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھے آخر انسان ہے حیوان تو نہیں چنانچہ اللہ پاک بھی ایسے مغلوب الحال لوگوں کے لیے ارشاد فرماتا ہے:

وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ الخ۔

(سورۃ النور: آیت 33)

ترجمہ: یعنی جو لوگ نکاح کا مقدور نہیں رکھتے ان کو چاہیے کہ ضبط کریں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ 

اور اگر وہ اس قدر ہی مغلوبِ شہوت ہے کہ الانضباط اس کے لیے ناممکن ہو تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ بیمار ہے اپنی بیماری کا طبی معالجہ کرائے۔ 

فرض کیجیے۔ ایک شخص جو نہایت ہی مغلوب الحال ہے اسے جوع البقر کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے اور وہ اپنی کمائی سے اپنا پیٹ نہیں پال سکتا تو کیا ایسے انسان کے لیے سرقہ بالضرورت جائز ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے كَآفَّةً لِّلنَّاسِ الخ۔

(سورۃ سبا: آیت 28)

کے لیے بحالتِ عموم قانون وضع کیا ہے اور نادر الوجود مثالیں خارج از بحث ہوا کرتی ہیں۔

*دلیل نمبر 3 اور 4:* دلائلِ سوئم و چہارم میں دلیلِ دوئم کا اعادہ ہی کیا گیا ہے اس لیے ان کو اس جگہ درج نہیں کیا گیا۔