شیعہ کی تجہیز و تکفین - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کی تجہیز و تکفین


جو لوگ شیعہ کو کافر کہتے ہیں ان کے نزدیک تو اس کی نعش کو ویسے ہی کپڑے میں لپیٹ کر دبا دینا چاہیے اور جو لوگ فاسق کہتے ہیں ان کے نزدیک تجہیز و تکفین حسبِ قاعدہ ہونا چاہیے اور بندہ بھی ان کی تکفیر نہیں کرتا۔

وضاحت: چونکہ شیعہ کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد و نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو اسی بناء پر ان کی تکفیر میں سلف و خلف اختلاف چلا آ رہا ہے، البتہ ان میں جو فرقہ ضروریات دین کا منکر ہو، اس کی تکفیر میں کسی کو اختلاف نہیں مثلاً: جو گروہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ پر زنا کی تہمت کا قائل ہے یا سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت اور خلافت کا منکر ہے یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھتا ہے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کو نبی تسلیم کر کے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق وحی لانے میں غلطی کا معتقد ہے۔

ان کے بارے میں علامہ شامی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: 

نعم لا شك فی تكفير من قذف السيدة عائشة او انكر صحبة الصديق أو اعتقد الالوهية فی علی او ان جبرئيل عليه السلام غلط فى الوحی أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔

اور حضرت نے جن شیعوں کے بارے میں فرمایا کہ: بندہ بھی ان کی تکفیر نہیں کرتا شاید حضرت کا ان سے مبتدعین مراد ہیں ان کے بارے میں علماء سے اقوالِ مختلف منقول ہیں، بعض کافر کہتے ہیں اور بعض کافر نہیں کہتے۔ 

(فتاویٰ رشیدیہ: جلد 1 صفحہ 325)