دلیل نمبر 7 متعہ کو رواج دینے سے حرام کاری نہیں رک سکتی -…

دلیل نمبر 7 متعہ کو رواج دینے سے حرام کاری نہیں رک سکتی

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

فطرتِ انسانی کے رئیس المبصرین حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ ہیں چنانچہ انہوں نے انسان کی نہ سیر ہونے والی حرص کے دریا کو کوزے میں اس طرح بند کیا ہے شعر:  

چشمِ تنگِ آز دنیا دار را  

یا قناعت پر کند یا خاکِ گور

دنیا اس امر کی شاہد ہے کہ انسان جس قدر اپنی ہوا و حرص کو وسعت دیتا جائے گا اور اس کی وسعت کے مطابق اس کی سیری کے گوناگوں سامان مہیا کرتا جائے اسی قدر یہ اشتہا ہل من مزید پکارتی چلی جاتی ہے اس لیے مصلحانِ قوم نے اپنے مشاہدات کے نتائج سے اور مرسلانِ الٰہی نے وحیِ الٰہی کے یمنِ برکت سے انسانی شہوت کی لا محدودی کو معلوم کر کے انسان کے قبضہِ اختیار میں متعہ پیدا کرنے کے لیے بقول شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ قناعت کے اصولوں کی پابندی تجویز کی نہ کہ شترِ بے مہارانہ آزادی کی عمل پیرائی مقرر فرمائی مشاہداتِ عالم کو عقل کے ترازو کے ایک پلڑے میں اور جنابِ امیر کی طرف منسوب کی ہوئی روایت: 

لو لا نھی عمر عن المتعة ما زانی الا شقی۔

ترجمہ: یعنی اگر حضرت عمرؓ متعہ سے منع نہ کرتے تو شقی کے سوا کوئی زنا نہ کرتا۔

کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر موازنہ کیجیے کہ انسان کی شہوتِ بہیمی قیود عائد کرنے سے قابو میں رہ سکتی ہے یا اسے آزادی دینے سے۔

فدایانِ متعہ گو علاوہ منکوحات کے لا تعداد ممتوعات رکھنے کی اجازت ہے اور پھر ان کے آگے پیچھے میں کوئی تمیز بھی نہیں ہے مگر کیا وہ ایمانداری سے کہہ سکتے ہیں کہ ان میں بچہ بازی یا مشت زنی اسی طرح مروج نہیں جس طرح دیگر اقوام میں ہے؟