حضرت مولانا علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی رحمۃاللہ کا فتویٰ روافض کا جنازہ پڑھنا
سوال: ان آیات:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡوَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞(سورۃ آلِ عمران: آیت 118)
وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ الخ۔(سورۃ ہود: آیت 113)
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ الخ۔(سورۃ الممتحنہ: آیت 13)
میں دوستی اور موالات کفار سے منع کیا گیا ہے نہ کہ اہلِ قبلہ سے؟
جواب:اکثر مبتدعین فرقوں کے عقائد کفر تک جا پہنچے ہیں، پھر اعتبار عموم الفاظ کا کیا جاتا ہے نہ کہ خصوص موارد کا مذکورہ بالا آیات کے عموم میں کفار کے ساتھ وہ گروہ بھی آ جاتے ہیں، جن کے عقائد ان کے مشابہ ہیں خوارج و روافض وغیرہ یوں کہیں کہ روافض و خوارج کو قیاس کر کے اس آیت کے حکم میں داخل کیا جائے گا۔
لہٰذا جو کام محبت کی زیادتی کا باعث بنتے ہیں، مثلاً: سلام کہنا، ہدیے بھیجنا، ان کے ساتھ ہم نشینی کرنا، ان کے بیمار کی عیادت کرنا وغیرہ جائز نہیں ہیں اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا اور ان کا جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔
حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:
ان الله اختارنی و اختار لی اصحابی و اصهاری وسيأتى قوم يسبونهم وينقصونهم فلا تجالسوهم ولا تشاركوهم ولا تناكحوهم۔
(رواه العقيلی)
اور روایت کیا شیخ محی الدین عبد القادر الشریف الجیلیؒ نے اور مزید یہ کہ ولا تصلوا معهم ولا تصلوا عليهم حلت اللعنة۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مجھے چنا، اور میرے دوست چنے، اور میرے اصہار ایک قوم آئے گی، وہ انہیں سب کریں گے، اور ان کی تنقیص کریں گے، ان کے ساتھ نہ بیٹھنا، نہ کھانا پینا، اور نہ مناکحت کرنا امام عقیلیؒ نے اسے روایت کیا، اور شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے بھی اسے ذکر کیا ہے، اور مزید یہ کہ ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو، ان کا جنازہ نہ پڑھو، ان پر لعنت اتر چکی ہے۔
اس طرح رافضیہ، خارجیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا مکروہ ہے، رسول اللہﷺ کے فرمان: لا تناكحوهم کی وجہ سے، اور اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 221)
ترجمہ: ایمان دار عورت مشرکہ سے بہتر ہے، چاہے تمہیں پسند آئے۔
(السيف المسلول: صفحہ514)
