سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ کا فتویٰ شیعہ کی نماز جنازہ میں…

سیدنا جعفر صادق رحمۃاللہ کا فتویٰ شیعہ کی نماز جنازہ میں شامل ہونے کی ممانعت


اصولِ کافی کے صفحہ 554 پر ہے: 

عن ابی عبد الله عليه السلام قال لا تصحبوا اهل البدعة ولا تجالسوهم فتصيروا عند الناس كواحد منهم قال رسول اللہﷺ المرء على دين خليله وقرينه۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادق صاحبؒ سے روایت ہے فرمایا کہ بدعتی لوگوں کی صحبت نہ کرو، اور نہ ان سے مل کر بیٹھو، ورنہ لوگوں میں تم انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ اسی طرح رسول پاکﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔

سیدنا جعفر صادق صاحبؒ نے اس حدیث میں اہلِ بدعت سے برتاؤ کرنے، ان سے دوستی کرنے اور ان سے مل کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ روافض جن کا بھنگ، شراب، نماز چھوڑنا اور بزرگانِ دین کو بُرا بھلا کہنا پیشہ ہے، اہلِ بدعت ہیں اس لیے سیدنا جعفر صادقؒ کے فتویٰ کے مطابق ان سے مسلمانوں کو بائیکاٹ کر دینا چاہیے اور نہ بحکمِ حدیث یہ وہ ان جیسے سمجھے جائیں گے۔ 

(آفتابِ ہدایت رد رفض و بدعت: صفحہ469)

دوسری حدیث اصولِ کافی کے صفحہ 555 پر ہے: 

کہ جو شخص ایسے لوگوں کے پاس نشست و برخاست کرے جو خدا کے دوستوں کو سبّ کیا کریں تو وہ خدا کا سخت نافرمان ہے۔

اس حدیث میں سیدنا جعفر صادقؒ سبّی شخص کے پاس بیٹھنے سے منع فرماتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ روافض نہ صرف خلفاءِ ثلاثہؓ کو گالیاں دیتے ہیں بلکہ اہلِ بیتؓ کو گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے اس لیے ان سے برتاؤ کرنے والا سیدنا جعفر صادقؒ کا نافرمان ہے۔

تحقیق بالا سے ثابت ہو گیا کہ روافض کی تکفیر قرآن و حدیث اور اقوالِ ائمہ اہلِ بیتؓ اور فتویٰ علماءِ ظاہر و باطن کی روشنی سے ثابت ہے ان سے کسی قسم کا برتاؤ کرنا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی نافرمانی میں داخل ہے ان سے بالکل قطع تعلق کرنا چاہیے ان سے مل کر کھانے میں، نشست و برخاست رکھنے، رشتے ناطے کرنے، ان سے محبت و الفت راہ و رسم رکھنے، ان کے جنازوں میں شامل ہونے، ان سے مل کر نماز پڑھنے اور دیگر تعلقات قائم رکھنے کی سخت ممانعت ہے مسلمانوں کو اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے دین و ایمان کو بچانا چاہیے۔ 

(آفتاب ہدایت رد رفض و بدعت: صفحہ470)