حضرت مولانا محمد جمال کا فتویٰ (استاذ تفسیر دار العلوم…

حضرت مولانا محمد جمال کا فتویٰ (استاذ تفسیر دار العلوم دیوبند) شیعہ کا جنازہ پڑھنا


سوال:ہمارے ملک میں عام طور پر شیعوں کا فرقہ امامیہ یعنی اثناءِ عشریہ پایا جاتا ہے اس فرقہ کے معروف عقائد یہ ہیں: 

1: موجودہ قرآنِ پاک کامل نہیں ہے اس کا ایک بڑا حصہ امام غائب کے پاس ہے، اور کمی بیشی سے محفوظ بھی نہیں ہے اس کی متعدد آیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور مسلمانوں نے تحریف کر دی ہے۔ 

2: ان کے نزدیک وحی کا سلسلہ خاتم النبیینﷺ پر ختم نہیں ہوا ہے بلکہ آپﷺ کے بعد بھی ائمہ معصومین پر سلسلہ وحی تشریعی اور غیر تشریعی آتی رہی ہے۔ 

3: ان کے نزدیک ائمہ آنحضرتﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔ 

4: یہ فوقہ شیخینؓ کے صحابی بلکہ مومن ہونے کا بھی منکر ہے۔

5: حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں بدگمانی بھی کرتا ہے۔ 

5: شیخینؓ کی بلکہ خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا منکر ہے اس کو منصب اور ظلم اور عدوان قرار دیتا ہے۔ 

6: حضورِ اکرمﷺ کو فرائضِ منصبی میں کوتاہی کرنے والا تصور کرتا ہے۔ 

پس مذکورہ بالا عقائد کے ساتھ اس فرقہ کے مسلمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے ان کے ساتھ مناکحت یعنی ان کی لڑکیاں لینا یا دینا، اسی طرح ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کے مردوں کی نمازِ جنازہ پڑھنا، ان کے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا یا ان کے ساتھ نشست و برخاست رکھنا اور الفت و مودت کا معاملہ کرنا سب حرام ہے۔

محبوب سبحانی، قطب ربانی سیدنا عبد القادر جیلانی صاحبؒ نے غنیۃ الطالبین میں یہ روایت لکھی ہے: 

سيجیء فی آخر الزمان قوم يبغضون اصحابی فلا تجالسوهم ولا تشاركوهم ولا تواكلوهم ولا تناكحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم۔

ترجمہ: یعنی آخری زمانہ میں ایک قوم ہو گی جو میرے اصحاب کی تنقیص کرے گی پس تم ان کی مجلس میں نہ بیٹھو اور نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو اور نہ ان سے رشتہ داری کرو، نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔

دارالعلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے ان کے بارے میں یہ فتویٰ دیا ہے کہ روافض کا وہ فرقہ جو سبِ شیخینؓ اور تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قائل ہے، کافر ہے ان کی تجہیز و تکفین میں امداد کرنا اور ان کے جنازے کی نماز پڑھنا اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا درست نہیں، اور ان سے بالکل متارکت اور مقاطعت کی جائے تاکہ ان کو تنبیہ ہو اور وہ سنی ہو جائیں۔

روافض اور عداوت اسلام:

روافض دراصل مذہبِ اسلام کے لیے مارِ آستین ہیں ان کی پوری تاریخ ہی اسلام کی بیخ کنی کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ چھٹی، ساتویں، آٹھویں صدی میں یہ لوگ صرف اسی لیے مسلمانوں سے الگ اور اسلام دشمن سمجھے جاتے تھے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سایہ میں مسلمانوں کی سیاسی شوکت کے دشمن تھے اور جس طرح یہود و نصاریٰ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا نظامِ خلافت درہم برہم ہو جائے، یہ لوگ صفوفِ اسلام میں ان کی بڑی امید گاہ تھے اور یہ ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کی تباہی میں کسی طرح کمی نہ کی جائے۔

خلافتِ بغداد کی تباہی میں خلیفہ معتصم باللہ (656 ہجری) کے شیعہ وزیر مؤید الدین محمد ابنِ علی علمی کا بنیادی ہاتھ تھا تاتاریوں کے اس حملے میں سولہ لاکھ مسلمان شہید ہوئے، مگر ابنِ علی علمی کی انتقام کی آگ پھر بھی نہ بجھی اس کی تفصیل کے لیے تاریخ ابن خلدون کی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 537 دیکھیں۔

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ جو لوگ کھلے بندوں کافروں کے ساتھ رہے ہیں اور قافلہ اسلام کے ہر اول دستہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف دن رات بغض کا لاوا اگلتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کی جب بھی کفار سے پنجہ آرائی ہوئی وہ شیعہ ان کافروں کے ساتھ مل گئے اور تاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تاریخی تباہی ان ہی کے ہاتھوں عمل میں آئی ہے اور خلافتِ بغداد ان ہی کے عمل سے مٹی، پھر ان کے کفر و الحاد اور اسلام دشمن ہونے میں کسی دانشمند کو کسی قسم کا شک و تردید ہو سکتا ہے؟

نہیں تو قرآنِ کریم کی اس شہادت کو لے لیں اور پھر فیصلہ خود کریں کہ کیا ان کو مسلمان کہا جا سکتا ہے:

وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ الخ۔

اس لیے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان دشمنانِ اسلام سے ہوشیار رہیں اور ان کے ساتھ معاشرتی روابط قائم کر کے اپنا دین و ایمان خراب نہ کریں۔ 

(پانچواں محاضرہ علمیہ بر موضوع رد شیعت: صفحہ50)