سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رضا مندی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

بلکہ ان تمام باتوں سے ہٹ کر حضرت فاطمہؓ اپنے والد محترم (محمدﷺ) کی جدائی کا غم جھیل رہی تھیں کیونکہ وہ مصیبت تمام مصائب پر بھاری تھی، اسی طرح آپ اپنی اس سخت بیماری سے پریشان تھیں جس نے آپ کو صاحب فراش بنادیا تھا، آپ کسی بھی چھوٹے بڑے معاملہ میں شرکت کرنے سے مجبور تھیں، چہ جائے کہ خلیفۃ المسلمین سے ملاقات کرنے جاتیں جو کہ ہر وقت امت کے معاملات اور خاص طور سے اس وقت جنگ ارتداد کے مسائل میں مشغول اور الجھے ہوئے تھے۔ مزید برآں نبی کریمﷺ کی بشارت کے مطابق آپ اس حسین ترین لمحہ کے انتظار میں تھیں جس کے بارے میں آپﷺ نے انھیں بتایا تھا کہ میرے اہل میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کرو گی۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2450)۔

بھلا جو شخص حضرت فاطمہؓ جیسا علم و یقین رکھتا ہو وہ امور دنیا کی اتنی پرواہ کیونکر کر سکتا ہے، علامہ عینی نے مہلب کا کتنا عمدہ قول نقل کیا ہے کہ کسی بھی راوی سے ایسی روایت نہیں ملتی کہ دونوں ملے ہوں اور ایک دوسرے سے سلام نہ کیا ہو، انھوں نے دیگر مشاغل سے کٹ کر اپنے گھر رہنے کو ترجیح دی جسے راوی نے ’’ہجران‘‘ قطع تعلقی سے تعبیر کردیا۔

(أباطیل یجب أن تمحیٰ من التاریخ: صفحہ 108)۔ 

حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے درمیان مضبوط اور خوشگوار تعلقات تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیسؓ ہی سیدہ فاطمہؓ کی جان لیوا بیماری میں ان کی عیادت اور تیمارداری کرتی تھیں اور ان کی زندگی کی آخری سانس تک ان کے ساتھ ر ہیں، انھیں غسل دلانے اور جنازہ تیار کرنے میں برابر شریک رہیں، حضرت علیؓ بذاتِ خود حضرت فاطمہؓ کی عیادت تو کرتے ہی تھے لیکن حضرت اسماء بنت عمیسؓ ان کی متعاون ہوتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہؓ نے اپنی تکفین و تدفین اور جنازہ کے اعلان سے متعلق حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو کچھ وصیتیں بھی کی تھیں اور حضرت اسماءؓ نے ان پر عمل بھی کیا۔

(الشیعۃ وأھل البیت: صفحہ 77)۔

چنانچہ سیدہ فاطمہؓ نے حضرت اسماء بنت عمیسؓ سے کہا تھا کہ عورتوں کے جنازہ پر ڈالا جانے والا کپڑا جس سے عورت کی جسمانی ساخت نمایاں ہوتی ہے میں اسے ناپسند کرتی ہوں، اسماء نے کہا: اے دخترِ رسولﷺ کیا میں آپ کو ایک ایسی چیز نہ دکھاؤں جو حبشہ والوں کے یہاں ہوتی ہے، پھر چند ہری ٹہنیاں منگوائیں اور اسے موڑکر کمان دار تابوت بنا دیا، پھر اس کے اوپر چادر ڈال دی، حضرت فاطمہؓ اسے دیکھ کر کہنے لگیں، یہ کتنا عمدہ اور خوش نما ہے، اس سے عورتوں اور مردوں کے جنازہ میں تمیز ہو جایا کرے گی۔

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 378)۔

 ابن عبدالبر رحمۃاللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت فاطمہؓ مسلمانوں میں پہلی وہ خاتون ہیں جن کی میت کو لکڑی کے تابوت میں چادر سے ڈھانپا گیا پھر حضرت زینب بنت جحشؓ کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ 

سیدنا ابوبکر صدیقؓ بھی غافل نہ تھے بلکہ حضرت علیؓ سے برابر دختر رسول کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، چنانچہ جب فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو حضرت علیؓ مسجد میں پانچوں وقت کی نماز پڑھنے آیا کرتے تھے، ایک دن نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا: دخترِ رسولﷺ کی طبیعت کیسی ہے؟ اسی طرح خوشگوار تعلقات میں پائیداری کو اس پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیسؓ ہی سیدہ فاطمہؓ کی حقیقت میں دیکھ بھال اور عیادت کرنے والی تھیں اور جس دن حضرت فاطمہؓ کی وفات ہوئی اس دن پورا مدینہ مردوں و عورتوں کی آہ و بکا سے ہل گیا اور وفات نبویﷺ کی طرح اس دن بھی سب لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سیدنا علیؓ کے پاس تعزیت میں یہ کہتے ہوئے تشریف لائے: ’’اے ابوالحسن! ہم لوگوں کے پہنچنے سے پہلے دخترِ رسولﷺ کی نمازِ جنازہ نہ پڑھ لینا۔ ‘‘

(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 77 کتاب سلیم بن قیس صفحہ 255)۔ 

سیدہ فاطمہؓ کی وفات 3 رمضان 1 1ھ بروز سہ شنبہ ہوئی، زین العابدین علی بن حسین سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: مغرب اور عشاء کے درمیان حضرت فاطمہؓ کی وفات ہوئی، ان کے جنازہ میں ابوبکر، عمر، عثمان، زبیر اور عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم تشریف لائے، جب نماز جنازہ پڑھنے کا وقت ہوا تو حضرت علیؓ نے کہا: اے ابوبکر! آگے بڑھیں، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اے ابو الحسن آپ کے ہوتے ہوئے؟ سیدنا علیؓ نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم! سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے علاوہ کوئی دوسرا ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھائے گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور رات کے وقت تدفین عمل میں آئی اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ 

(المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 68 اس حدیث کی سند میں ضعف ہے۔)

اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور یہی راجح روایت ہے۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1759)۔


صفحہ 2 از 2