دلیل نمبر 3: متعہ سے ہر جگہ میں تیرا تو میری کا جلوہ نظر آئے گا
جب اس امر سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ کل جدید لذیذ تو مرد کمبخت کی کیا ضرورت پڑی ہے کہ خواہ مخواہ بقیدِ عدل صرف ایک ہی پرانی بوسیدہ ڈفلی کو بجاتا رہے اور ہر شب نئے سے نئے ساز طرب سے مزے نہ لوٹے پھر یہ بھی امر واقع ہے کہ جب ایک دفعہ مرد قلیل الزحمت کثیر اللذت۔ اصول پر کار بند ہو جائیں گے تو اس شیر کی طرح جسے جب ایک دفعہ خون آشامی کا چسکا پڑ جائے تو وہ جنگل میں کسی حیوان کو گزند پہنچائے بغیر نہیں چھوڑ سکتا یہ بھی کسی عورت کو اس کی عصمت دری کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے سوسائٹی میں میری اور تیری کی قید اٹھ جائے گی ہر تلوار کا حق ہوگا، کہ وہ جس نیام میں چاہے گھسے اور ہر شمشیر زن جسے چاہے گا، اس پر وار کرے گا نتیجہ ظاہر ہے چنانچہ انہی نظر تباہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جناب ابو الحسنؓ نے لا تلحوا علی المتعة الخ والی حدیث ارشاد فرمائی تھی جو کافی: جلد3 صفحہ 192 میں درج ہے۔
ملاحظہ ہو روایت نمبر 2 زیرِ عنوان روایاتِ حرمت استدلالیہ۔