دلیل نمبر 2: متعہ شریفانہ معاشرت و تمدن کا خانہ بر انداز ہے
انسان فطرتاً آزاد واقع ہوا ہے اس لیے جب کبھی کوئی مرسل مذہب کے قیودی احکامات لے کر دنیا میں مبعوث ہوا ہے، تو ہمیشہ انسان نے اس کی مخالفت ہی کی ہے اور مرسلانِ الٰہی کی نسلاً بعد نسلاً تلقین سے اگر سلسلہ حقہ میں کبھی آ بھی گیا ہے، تو پھر اپنی طبعی شہوات کی عنان گیختہ آزادیوں سے مجبور ہو کر سابقہ وحشیانہ فسق و فجور کی طرف عود کرتا رہا ہے تاریخ اس کی شاہد اور قرآنِ کریم اس کا گواہ ہے ابو البشرﷺ سے لے کر خیر البشرﷺ تک ہزاروں قسم کے عذاب انسان پر نازل ہوئے مگر وہ اپنی اسی خصلت کو معدوم نہ کر سکا اور وقتاً فوقتاً اس کے مہیب مناظر صفحہ عالم پر نقش ہوتے رہے اور مٹتے رہے پس جب باوجود پیغمبروں کی تہدید اور خدائے قہار کے عذاب ہائے شدید کے سرکش انسان کی یہ حالتِ زبون رہی، تو جس صورت میں ازروئے مذہب ہی اس کو ایک طرف تو شہوت رانی کا لائسنس بدی الفاظ میں ملا ہو:
تزوج منھن الفا فانھن مستاجرات۔
ترجمہ: یعنی ہزار عورتوں سے متعہ کرو، کیونکہ وہ ٹھیکہ کی چیزیں ہیں
(کافی: جلد 2 صفحہ191)
اور دوسری طرف ثوابِ دارین کی یہ سند عطا ہوئی ہو کہ
من تمتع مرة واحدة عتق ثلثہ من النار الخ۔
ترجمہ: یعنی جس نے ایک بار متعہ کیا، تیسرا حصہ اس کے جسم کا آتشِ دوزخ سے آزاد ہوا۔
(منہج الصادقین)
تو انسان کو کیا غرض کہ خواہ مخواہ منکوحات کی قید میں پڑ کر کہیں تو عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اپنے سر لے، اور کہیں بال بچوں کی تعلیم و پرورش کا بارِ گراں اپنے کندھوں پر اٹھائے لہٰذا تدبیرِ منزل تو رخصت ہوئی اور اس کے ساتھ ہی سیاستِ مدن بھی گئی، کیونکہ مقدم الذکر دراصل مؤخر الذکر کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ پس ابتدائے آفرینش میں جو وحشیانہ حالت انسان کی تھی وہی پھر قائم ہو جائے گی چنانچہ ایسی زندگی کے آثار اب تک افریقہ کے مردم خور وحشی اقوام میں پائے جاتے ہیں۔