میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق…

میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اس مقام پر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وجوب میراث کے مسئلہ میں روافض تناقض کا شکار ہیں اور خود اپنی دلیل کی مخالفت کرتے ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میراثِ نبویﷺ کا وارث صرف فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو ٹھہراتے ہیں اور آپﷺ کی ازاواج مطہراتؓ اور عصبہ (اقرباء) کی شکل میں دیگر ورثاء کو اس سے محروم کر دیتے ہیں، اس طرح جن آیات کے عمومی خطاب سے اپنے مخالف پر حجت قائم کرتے ہیں وہ خود ہی اس کی مخالفت کرتے ہیں، چنانچہ صدوق نے اپنی سند سے ابو جعفر الباقر سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا ’’نہیں‘‘ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم رسولﷺ کی وارث صرف فاطمہ تھیں، عباسؓ، علیؓ آپ کے وارث نہیں تھے۔ علی علیہ السلام نے آپﷺ کا ہتھیار وغیرہ اس وجہ سے لے لیا تھا کہ آپ کی طرف سے قرض سے ادا کیا جائے۔ 

(من لا یحضر ہ الفقیۃ: 4 صفحہ 190، 191) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 451)۔

اسی طرح کلینی، صدوق اور طوسی نے اپنی اپنی سند سے باقر سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’علی علیہ السلام، رسولﷺ کے علم کے وارث ہوئے اور سیدہ فاطمہؓ آپﷺ کے ترکہ کی وارث ہوئیں۔‘‘ 

(الکافی: الکلینی: جلد 7 صفحہ 137) العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 451) ۔

اتنا ہی نہیں بلکہ دوسرے مقامات پر بعض روافض مصنّفین نے حضرت فاطمہؓ کو بھی وراثت سے محروم کیا ہے، ان کا عقیدہ ہے کہ عورتیں زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں بن سکتیں، اس سلسلہ میں ان کے یہاں متعدد روایات منقول ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابو جعفر صادق نے فرمایا: عورتیں زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہو سکتیں۔

(الکافی: الکلینی: جلد 7 صفحہ 137)۔

صدوق اپنی سند سے میسر (راوی) سے روایت کرتے ہیں کہ میسر کا بیان ہے کہ میں نے ابوجعفر صادق سے پوچھا: عورتوں کو میراث میں کیا مل سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: زمین اور غیر منفقولہ جائیداد میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

(الشیعۃ وأھل البیت: صفحہ 89)۔

 اس فتویٰ اور عقیدہ کے اعتبار سے یہ بات صاف ہے کہ حضرت فاطمہؓ مطلوبہ میراث کی مستحق نہ تھیں، چہ جائے کہ اس کے لیے اس حدیث سے استدلال کیا جائے ’’نَحْنُ مَعَاشَرُ الْاَنْبِیَائِ لَانُوْرَثُ‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1768)۔

کیونکہ جب عورت زمین اور غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہو سکتی تو حضرت فاطمہؓ جو کہ ایک خاتون تھیں۔ ان کے لیے رافضی عقیدہ کے مطابق بھلا یہ کیوں کر درست ہو سکتا ہے کہ فدک کی زمین میں وراثت کا مطالبہ کریں جو کہ غیرمنقولہ جائیداد تھی۔

(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 98)۔

پس روافض کی یہ سب کھینچاتانی ان کی جہالت، کذب اور تناقض کی دلیل ہے۔ 

(العقیدہ فی أہل البیت: صفحہ 452)۔

رہا روافض کا یہ دعویٰ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ سے گواہوں کا مطالبہ کیا تھا، تو آپ نے علی اور ام ایمن رضی اللہ عنہما کو گواہی کے لیے پیش کیا، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ان دونوں کی گواہی تسلیم نہیں کیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں مکمل طور سے جھوٹ اور فریب ہیں۔

 حماد بن اسحق کا کہنا ہے کہ جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ نے فدک کی زمین کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ رسول اللہﷺ اسے ان کو جاگیر میں دیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ کی گواہی اس لیے نہ مانی کہ وہ حضرت فاطمہؓ کے شوہر تھے، تو یہ سب باتیں بےبنیاد اور فرضی داستان ہیں، کسی بھی صحیح و مستند روایت سے حضرت فاطمہؓ کا یہ دعویٰ ثابت نہیں ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 236۔ 238)


صفحہ 4 از 4