میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق…

میراث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

’’اور سلیمان داؤد کا وارث بنا۔‘‘

2: اور حضرت زکریا علیہ السلام کے بارے میں اللہ نے فرمایا

وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا۞ يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ۞ (سورۃ مريم آیت 5، 6)

ترجمہ: اور مجھے اپنے بعد اپنے چچازاد بھائیوں کا اندیشہ لگا ہوا ہے۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، لہٰذا آپ خاص اپنے پاس سے مجھے ایک ایسا وارث عطا کر دیجیے۔ جو میرا بھی وارث ہو، اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے بھی میراث پائے۔ اور یا رب! اسے ایسا بنائیے جو (خود آپ کا) پسندیدہ ہو۔

روافض کا استدلال یہ ہے کہ میراث کا مطلب ہے جائیداد واموال کا ترکہ اور مذکورہ آیات کی تفسیر میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں مال نہیں علم کی وراثت مراد ہے۔ 

(منہاج الکرامۃ: صفحہ 109) بحوالہ العقیدہ فی أہل البیت اور الطرائف: ابن طاؤوس: صفحہ 347)۔

روافض کی اس دلیل اور استدلال کا جواب یہ ہے کہ ’’میراث‘‘ کا کلمہ اسم جنس ہے اور اس کے ماتحت مختلف انواع ہیں، پس میراث کا لفظ علم، نبوت، بادشاہت اور منتقل ہونے والی دیگر چیزوں کی وراثت کے لیے بھی مستعمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (سورۃ فاطر آیت 32)

ترجمہ: پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا۔

اور فرمایا:

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن۞ الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 10، 11)

ترجمہ: یہ ہیں وہ وارث۔ جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

ان کے علاوہ بھی کئی آیات ہیں جن میں انھیں معنوں میں وارث اور میراث کا لفظ وارد ہے۔ بہرحال مذکورہ دلائل کی روشنی میں جب میراث کا لفظ صرف مال و جائیداد کے لیے خاص نہیں رہا، تو اللہ کے فرمان وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوُدَ اور يَرِثُنِیْ وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ وہاں میراث کی جنس مراد ہے، نہ کہ صرف مال کی وراثت۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاوہ کئی اولادیں تھیں، اگر مال کا وارث بنانا مقصود ہوتا تو صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو خاص نہ کرتے، پس واضح رہے کہ اس وراثت سے مراد علم و نبوت کی وراثت ہے نہ کہ مال کی، علاوہ ازیں ایک قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مدح اور ان پر اللہ کی خاص نعمت کے اظہار کے لیے بیان کی گئی ہے اور وراثت میں صرف مال و جائیداد کا ملنا کوئی قابلِ تعریف چیز نہیں ہے، کیونکہ وراثت میں مال و جائیداد تو ہر انسان کو ملتی ہے، تو معلوم ہوا کہ یہاں وارثت کی خاص نوعیت مراد ہے۔ 

بالکل یہی معاملہ اللہ کے فرمان يَرِثُنِیْ وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کا بھی ہے یعنی یہاں مال کی وراثت مراد نہیں ہے، کیونکہ اگر مال کی وراثت مان لی جائے تو صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام آل یعقوب کے مال کے وارث نہیں ہوں گے بلکہ آپ کے علاوہ آل یعقوب کی دوسری اولادیں اور بقیہ ورثہ آل یعقوب کی جائیداد کے وارث ہوں گے۔ (لہٰذا دعا کا فائدہ نہیں) 

(منہا ج السنۃ: جلد 4 صفحہ 222۔ 224)۔

اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام کا یہ کہنا کہ وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِن وَرَائِی مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت داروں کا ڈر ہے، اس میں بھی اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ یہاں مال کی وراثت مراد ہے، اس لیے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنی موت کے بعد اپنے اقرباء سے یہ خوف نہیں تھا کہ وہ آپ کا مال لے لیں گے۔ کیونکہ یہ ڈرنے کی کوئی چیز نہیں ہے، ایسا عموماً ہوتا ہے، اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام بڑے دولت مند بھی نہ تھے، بلکہ بڑھئی کا کام کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔ جیسا کہ صحیح مسلم میں مذکور ہے۔

 (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2379)۔

اور زکریا علیہ السلام ایسے بھی نہ تھے کہ اپنی ضرورت و خوراک سے زیادہ مال بچا کر ذخیرہ اندوزی کرتے رہے ہوں کہ اس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اولاد کی شکل میں وارث کا مطالبہ کیا ہو، پس تمام قرائن و توضیحات اس بات کی دلیل ہیں کہ مذکورہ دونوں آیات میں نبوت کی وراثت اور اس کی ذمہ داریاں سنبھالنا مراد ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 225) البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 253)، العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 448)

امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: حضرت زکریا علیہ السلام نے ایسی اولاد کے لیے دعا نہیں کی تھا جو آپ کے مال کا وارث بنے اس لیے کہ انبیاء کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ آیت کریمہ کی یہی درست اور راجح تفسیر ہے، بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام نے ایسی اولاد مانگی تھی جو ان کے’’علم‘‘ اور نبوت کا وارث ہو، نہ کہ مال کا، کیونکہ نبی کریمﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

إِنَّا مَعْشَرَ الْاَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ صَدَقَۃٌ۔

(صحیح مسلم: 1758)۔

’’ہم انبیاء کی جماعت کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں، صدقہ ہے۔‘‘

مختصر یہ کہ یہ حدیث، فرمان الہٰی وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ کی ماثور تفسیر اور حضرت زکریا علیہ السلام کے قول: فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنكَ وَلِيًّا (سورۃ مریم آیت 5)يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ کی صریح ترجمانی ہے اور اس مسئلہ میں وارد شدہ عمومی احکامات کی تخصیص ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اپنے باپ حضرت داؤود علیہ السلام سے وراثت میں مال نہیں حاصل کیا تھا، بلکہ انھیں علم اور حکمت وراثت میں ملی تھی، جیسا کے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو آل یعقوب سے یہی چیزیں وراثت میں ملی تھیں روافض کے علاوہ بقیہ علماء مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔ 

(تفسیر قرطبی: جلد 11 صفحہ 35۔45)۔

صفحہ 3 از 4